115 امیدواروں کے اعلان کے بعد بی آر ایس میں ناراضگیاں ،گروپ بندیاں عروج پر
انٹلیجنس کی رپورٹ پر نظر ۔ تازہ سروے اور تقریباً 20 امیدواروں کو بی فارم سے محروم کرنے کے امکانات
حیدرآباد : /29 اگست (سیاست نیوز) بھارت راشٹر سمیتی (بی آر ایس) سربراہ و چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے اپوزیشن کو چاروں خانے چت کرنے کا منصوبہ بناتے ہوئے ایک ساتھ 115 امیدواروں کا اعلان کردیا ۔ کانگریس اور بی جے پی کے سنبھلنے تک عوام میں پہونچکر میدان مارلینے کی جو کوشش کی تھی تمام تدابیر بی آر ایس کیلئے الٹی ثابت ہورہی ہیں ۔ ٹکٹ سے محروم ہونے والے ارکان اسمبلی ، ٹکٹ کے دعویدار اور ساتھ ہی موجودہ ارکان اسمبلی کو دوبارہ ٹکٹ دینے پر حکمران جماعت بی آر ایس میں بڑے پیمانے پر اختلافات ، ناراضگیاں ، احتجاج کا سلسلہ جاری ہے جبکہ بعض قائدین استعفے دے رہے ہیں ۔ چند قائدین کھل کر مخالفت کررہے ہیں ، چند قائدین اپنے حامیوں کا خفیہ اجلاس طلب کررہے ہیں ۔ چند ناراض قائدین کانگریس اور بی جے پی سے رابطہ بنائے ہوئے ہیں ۔ 10 دن قبل پارٹی امیدواروں کا اعلان کرنے والے چیف منسٹر کے سی آر پارٹی کے ناراض سرگرمیوں کا خاموشی سے جائزہ لے رہے ہیں ۔ عوام کی نبص کا جائزہ لینے کیلئے دوبارہ سروے کررہے ہیں اور انٹلیجنس سے رپورٹ طلب کرتے ہوئے تازہ حالات پر نظر رکھے ہوئے ہیں ۔ پارٹی کے قاصدوں کو روانہ کرتے ہوئے چند ناراض قائدین کو سمجھا رہے ہیں انہیں ایم ایل سی ، ایم پی کے علاوہ دیگر عہدوں کا پیشکش کررہے ہیں اور ساتھ ہی امیدواروں کی فہرست پر نظرثانی کرنے پر بھی سنجیدگی سے غور کررہے ہیں ۔ خاص کر 20 تا 30 اسمبلی حلقوں کی ناراضگیوں پر نظر رکھے ہوئے ہیں اور 20 امیدواروں کو تبدیل کرنے پر دوبارہ غور کیا جارہا ہے ۔ بی آر ایس کے ورکنگ پریسیڈنٹ و ریاستی وزیر کے ٹی آر کے بیرونی ملک کے دورے سے واپسی کے بعد قطعی فیصلہ ہونے کا امکان ہے ۔ چیف منسٹر کے سی آر نے امیدواروں کا اعلان کرتے وقت ہی ضرورت پڑنے پر چند امیدواروں کو تبدیل کردینے کا اشارہ دیا تھا ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ اسمبلی حلقہ جات کوداڑ ، ایلندو ، ناگرجنا ساگر ، اپل ، آصف آباد ، محبوب آباد ، بیلم پلی ، منتھنی ، کتہ گوڑم ، ورنگل ایسٹ ، ملکاجگیری ،کلواکرتی ، پداپلی ، راما گنڈم ، کنٹونمنٹ ، مانکنڈور کے ساتھ متحدہ ضلع کھمم کے چند امیدواروں کو تبدیل کرنے پر غور کیا جارہا ہے ۔ ذرائع سے پتہ چلا ہے کہ چیف منسٹر انہیں فوری تبدیل نہیں کریں گے اگر ایسا کیا جاتا ہے تو پہلے سے موجود ناراض سرگرمیوں میں مزید اضافہ ہوگا اور وہ کانگریس اور بی جے پی میں شامل ہوسکتے ہیں جس سے بی آر ایس کو نقصان پہنچے گا ۔ پرچہ نامزدگی داخل کرتے ہوئے اعلانکردہ امیدواروں کے بجائے نئے امیدواروں کو بی فارم دینے کی حکمت عملی تیار کی گئی ہے ۔ تاکہ ٹکٹ سے محروم قائدین کیلئے دوسری جماعتوں میں شامل ہونے کا وقت نہ مل سکے اور اگر وہ بحیثیت آزاد امیدوار مقابلہ کرتے ہیں تو اپنے انتخابی نشان کو عوام تک لے جانے میں ناکام رہیں گے اور بی آر ایس عوام کے درمیان رہتے ہوئے ان کی بھرپور تائید حاصل کرسکے ۔ بی آر ایس امیدواروں کے نام پر دوبارہ نظرثانی کرنے کے اشارے ملنے کے بعد ٹکٹ کی دعویداری پیش کرنے والے قائدین نے جہاں اپنی سرگرمیوں میں تیزی پیدا کردی ہے وہیں ٹکٹ حاصل کرنے والے امیدواروں میں مایوسی بھی دیکھی جارہی ہے اور وہ انتخابی مہم میں پیسہ لگانے کے معاملے میں پس و پشت کررہے ہیں ۔ بی آر ایس کے تازہ حالات سے کیڈر فکر مند ہوگیا ہے ۔ پارٹی میں کس کے ساتھ رہے فیصلہ کرنے سے قاصر ہیں ۔ چیف منسٹر کے سی آر انتخابات سے عین قبل فلاحی اسکیمات پر سرکاری خزانہ کھولتے ہوئے عوام میں پائی جانے والی ناراضگیوں کو دور کرنے میں مصروف ہیں ۔ مگر بی آر ایس میں امیدواروں کے اعلان کے بعد پیدا شدہ حالات سے فکر مند ہوگئے ہیں ۔ کھمم میں چند دن قبل سابق رکن پارلیمنٹ پی سرینواس ریڈی نے کافی پریشان کیا وہ اب کانگریس میں شامل ہوگئے ۔ ٹکٹ نہ دینے پر سابق وزیر ٹی ناگیشور راؤ اب بی آر ایس کیلئے بہت بڑا چیلنج بن گئے ہیں ۔ بی آر ایس قیادت انہیں سمجھانے منانے میں لگی ہوئی ہے ۔ دوسری جانب ٹکٹ کے دعویدار پی مہندر ریڈی کو وزارت میں شامل کرتے ہوئے ضلع رنگاریڈی میں بی آر ایس کو نقصان سے بچالیا گیا ۔ اسمبلی حلقہ ویملواڑہ کے ٹکٹ سے محروم ہونے والے سی رمیش کو حکومت کا مشیر بناتے ہوئے کابینی درجہ دیا گیا ہے ۔ اسمبلی حلقوں اسٹیشن گھن پور ، نرساپور ، جنگاؤں میں پارٹی قائدین کے درمیان زبردست رسہ کشی جاری ہے ۔ ریکھا نائیک نے کانگریس پارٹی ٹکٹ کیلئے درخواست داخل کی ہے ۔ ن