اچار کے مرتبان پھینک دیئے گئے
حیدرآباد 6 جون (یو این آئی) اچار کے تاجراور باروچی کے کورونا سے متاثر ہونے پر موذی وائرس پھیلنے کا خدشہ ظاہر کرتے ہوئے گاوں والوں نے اچار کے مرتبان پھینک دیئے اور ان میں تشویش پیدا ہوگئی۔یہ واقعہ تلنگانہ کے ضلع محبوب نگر کے نواب پیٹ منڈل کے کلوور گاوں میں پیش آیا جہاں سرپنچ اور اس کے شوہر کی ایما پر گاوں والوں کیلئے اچارفراہم کیا گیا تھا تاہم اچار کاتاجر اور باروچی کوروناسے متاثر ہونے والے 19افراد میں شامل ہوگئے ۔اس خبر کے ساتھ ہی گاوں میں سنسنی پھیل گئی اور بڑی تعداد میں لوگوں نے اچار کے مرتبان پھینک دیئے ۔ سرپنچ نے اپنے گاوں والوں کو آم کا اچارجو کافی شوق سے کھایاجاتا ہے بطور تحفہ دینے کا ارادہ کیا تاہم یہ اچار ہی اس کے لئے مصیبت کا ذریعہ بن گیا۔اس سرپنچ نے دس دن پہلے قریبی شہر شاد نگر کے ایک تاجر کو دو کنٹل آم کے اچار کا آرڈر دیا۔ طئے یہ ہوا کہ تاجر اپنی پوری ٹیم کے ساتھ خود گاؤں میں رہ کر اچار تیار کرے گا۔ اس کے دوسرے ہی دن تاجر نے 12افرادکے ساتھ کلوور آکر وہاں دو دن قیام کیا اور وہیں پر اچار تیار کرنے کے بعد اسے مرتبانوں میں پیاک کرکے سرپنچ کے حوالے کردیا۔سرپنچ نے گاؤں کے ہر گھرکو اچار کا ایک مرتبان گفٹ کیا جس پر گاوں والوں نے اس تحفہ پر مسرت کا اظہار کرتے ہوئے سرپنچ کا شکریہ ادا کیا۔ چند گاؤں والوں نے تازہ اچار کو کھانے میں استعمال کرنا بھی شروع کردیا لیکن زیادہ تر افرادنے روایت کے مطابق اسے بعد میں کھانے کے لیے اٹھا کر رکھ دیا کیونکہ یہ بات مشہور ہے کہ اچار کا اصل مزہ اس کے بننے کے فوری بعد نہیں بلکہ دھیرے دھیرے چند دنوں بعد آتا ہے ۔کلوور میں اچار کی تقسیم کے واقعہ کے بعد شاد نگر میں کورونا کے 19 معاملات کا پتہ چلا۔ پورے گاؤں میں اس وقت تشویش پھیل گئی جب یہ خبر عام ہوئی کہ اچار کے تاجر اور ان کے ساتھ گاؤں آنے والے ایک باورچی بھی شاد نگر کے کورونا متاثرین میں شامل ہیں۔ اچار کے تاجر نے کلوور میں اچار بنانے سے پہلے اس باورچی کے ساتھ حیدرآباد کے علاقہ ضیاء گوڑہ کا سفر کیا تھا ۔سمجھا جاتا ہے کہ وہیں وہ دونوں کورونا وائرس سے متاثر ہوئے تھے ۔اس خبر کے عام ہوتے ہی خوفزدہ افراد نے اچار سے بھرے شیشے کے مرتبان پھینک دیئے ۔ محکمہ صحت کے اہلکاروں نے گاؤں کا سروے کرتے ہوئے گاؤں والوں کی طبی جانچ کا انتظام کیا لیکن وہاں کوئی بھی کورونا سے متاثر نہیں پایا گیا۔ گاؤں میں دہشت کے پیش نظر ضلع اور محکمہ صحت کے اہلکاروں نے ان گاوں والوں کو سمجھانے کی کوشش کی کہ اس طرح بنائے گئے کھانے پینے کی اشیاء سے کورونا پھیلنے کے امکانات نہیں ہیں۔