اچھے دن ! مگر کس کے؟

   

Ferty9 Clinic

حیدرآباد۔5اگسٹ (سیاست نیوز) کسانوں کے حالات کو تبدیل کرنے کے حکومت کے وعدے وفا نہ ہونے کے سبب کسانوں کی معاشی حالت انتہائی ابتر ہوتی جا رہی ہے اور ان حالات میں حکومت کی جانب سے کسانوں کی معاشی حالت کو بہتر بنانے اور پیداوار کو اقل ترین قیمتوں میں خریدنے کے اقدامات نہ کئے جانے کے سبب پیداوار خانگی کمپنیوں کی جانب سے خریدی جا رہی ہیں اور خانگی کمپنیوں سے حاصل ہونے والی آمدنی پر کسان اکتفاء کرنے پر مجبور ہیں جبکہ کسانوں سے کم قیمتوں میں حاصل کی جانے والی پیداوار پر کئی گنا منافع حاصل کرتے ہوئے کمپنیاں مہنگے داموں میں فروخت کر رہی ہیں جس کے سبب عوام پر اضافی مالی بوجھ عائد ہونے لگا ہے۔ حکومت ہند کی جانب سے ملک کی معاشی حالت کو نظر انداز کرتے ہوئے کئے جانے والے اقدامات ملک کی دیگر ریاستوں پر اثر اندازہورہے ہیں لیکن حکومت ہند کی جانب سے ان امور پر توجہ دینے کے بجائے کسانوں کو مالی امداد کی فراہمی کی اسکیم کے نام پر خوش کرنے کی کوشش کی گئی جبکہ اعداد و شمار کا جائزہ لیا جائے تو دیہی آمدنی میں 2013-14 مالی سال سے 2018-19 کے دوران زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اور اس بات کا علم حکومت کو ہے لیکن اس کے باوجود اس مسئلہ پر مکمل خاموشی ہے۔ دیہی آمدنی کی شرح ترقی سال 2013-14میں 28 فیصد ریکارڈ کی گئی تھی لیکن یہ گھٹتے ہوئے سال 2018-19کے دوران 3.7 پر آچکی ہے۔ ماہرین معاشیات کے مطابق گذشتہ دو برسوں کے دوران دیہی شرح آمدنی میں زبردست گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جس سے نمٹنے کیلئے حکومت نے کسانوں کے لئے بیمہ اور دیگر اسکیمات کا اعلان کیا مگر اس کے کوئی مثبت نتائج برآمد نہیں ہورہے ہیں۔شرح ترقیات میں ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں میں ہر سال ریکارڈ کی جانے والی تبدیلیوں کا جائزہ لیا جائے تو ملک میں کوئی شعبہ ایسا باقی نہیں رہا جو کہ ترقی کی رفتار میں آگے ہے۔مسافرین کی گاڑیوں کے شعبہ میں 16.3 فیصد گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے جبکہ صرف سال 2018-19کا جائزہ لیا جائے تو کمرشیل وہیکلس کی صنعت میں 23.4 فیصد کی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اسی طرح موٹر سائیکل کی صنعت میں 7.5 فیصد اور اسکوٹر کی صنعت میں 16.3 فیصد کی مجموعی گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے۔ مالی سال 2019کے ابتدائی سہ ماہ میںجو معیشت کی صورتحال ریکارڈ کی گئی ہے وہ گذشتہ 14 برسوں میں ریکارڈ نہیں کی گئی تھی اور نہ ہی ملک گذشتہ 14برسوں میں ایسے معاشی انحطاط کا شکار ہوا تھا ۔ مرکزی حکومت کی جانب سے ان امور پر توجہ کے بجائے دیگر امور میں دلچسپی کے ذریعہ ملک کی معیشت کی ابتر حالت کو غیر اہم مسئلہ قرار دینے کی کوشش کی جا رہی ہے اور یہ دعوی کیا جا رہاہے کہ معیشت کو کوئی خطرہ نہیں ہے جبکہ سالانہ شرح ترقیات اور پیداوار میں جو گراوٹ ریکارڈ کی گئی ہے اس سے نمٹنا حکومت کی ہی ذمہ داری ہے لیکن صنعتی اور معاشی بحران کے سبب یہ حالات پیدا ہوئے ہیں جو کہ ملک کو معاشی بحران کی راہ پر ڈال رہے ہیں۔