اڈانی، امبانی میرے بھائی کو کبھی نہیں خرید سکتے : پرینکا

,

   

غازی آباد (یوپی) : کانگریس لیڈر پرینکا گاندھی نے آج اپنے برادر راہول گاندھی کو ’’جنگجو‘‘ قرار دیا اور کہاکہ وہ ایسی حکومت کے اقتدار سے خائف نہیں ہیں جس نے اُن کے امیج کو مسخ کرنے کے لئے ہزاروں کروڑ خرچ کردیئے ہیں۔ دہلی سے اترپردیش میں بھارت جوڑو یاترا کے داخلہ پر پرینکا نے لونی سرحد پر میڈیا کے نمائندوں سے کہاکہ بڑے صنعت کار جیسے اڈانی اور امبانی بھلے ہی کئی سیاستدانوں، پبلک سیکٹر یونٹس اور میڈیا کو خرید چکے ہیں لیکن وہ میرے بھائی کو خریدنے میں کامیاب نہیں ہوئے اور نہ کبھی ہوں گے۔ لوگ کہتے ہیں کہ راہول گاندھی کو موسم سرما میں تک سردی محسوس نہیں ہورہی ہے۔ یہ شاید اِس لئے کہ اُنھوں نے ’’سچائی کی ڈھال‘‘ پہن رکھی ہے۔ راہول جاریہ یاترا کے دوران دہلی کے سرد موسم میں تک مسلسل ٹی شرٹس میں نظر آرہے ہیں۔ اِس معاملہ میں میڈیا اور سیاستدانوں نے بھی حیرانی کا اظہار کیاکہ سابق صدر کانگریس پر شدید سردی کا اثر نہیں ہورہا ہے۔ پرینکا نے کہاکہ اُنھیں یاترا کا خیرمقدم کرتے ہوئے فخر محسوس ہورہا ہے، جو کنیا کماری سے 3 ہزار کیلو میٹر کا سفر طے کرتے ہوئے اترپردیش میں داخل ہوئی ہے۔ ’’میرے بڑے برادر کو دیکھئے ، مجھے ایسے بھائی پر بہت فخر ہے کیوں کہ حکومت وقت نے اُن پر تمام تر دباؤ ڈال رکھا ہے۔ اُن کا امیج بگاڑنے کے لئے ہزاروں کروڑ خرچ کردیئے ہیں لیکن وہ سچائی کے راستے سے نہیں ہٹے۔ سرکاری ایجنسیوں کو پیچھے لگادیا گیا ہے لیکن وہ خوفزدہ ہرگز نہیں ہیں کیوں کہ وہ جنگجو ہیں‘‘۔ لونی سرحد پر زبردست ہجوم نے یاترا کا خیرمقدم کیا اور پرینکا کے راہول کے بارے میں الفاظ پر جم کر تالیاں بجائیں۔ پرینکا نے کہاکہ اڈانی جی ، امبانی جی نے بڑے بڑے سیاستدانوں کو خریدا، پی ایس یوز کو خریدا، میڈیا پر بھی اپنا تسلط قائم کرلیا لیکن وہ میرے برادر کو نہیں خرید سکے اور نہ ایسا کرپائیں گے۔ مجھے اُن پر اِس طرح کے تمام قائدین پر فخر ہے۔ اترپردیش کی سکریٹری انچارج اے آئی سی سی جنرل سکریٹری پرینکا نے کہاکہ راہول نے نفرت کے بازار میں محبت کی دکان کھولی ہے تاکہ امن و سکون اور بھائی چارہ کا ماحول پیدا کیا جاسکے اور وہ اسی بنیادی مقصد کے ساتھ چل پڑے ہیں تاکہ لوگ متحد ہوجائیں۔ مَیں اترپردیش میں ہر ایک سے اپیل کرتی ہوں کہ محبت کی اِس دکان کی فرنچائز کھولیں۔ اُنھوں نے یقین ظاہر کیاکہ راہول سچائی کی راہ پر چل رہے ہیں اور وہ اِس راہ سے نہیں ہٹیں گے چاہے حکومت اور مخالفین کچھ بھی کرلیں۔