اڈانی معاملے پر پارلیمنٹ میں ہنگامہ، جے پی سی تحقیقات پر اپوزیشن بضد

   

’’مودی۔اڈانی بھائی بھائی، دیش بیچ کر کھائے ملائی ‘‘جیسے نعرے‘ راجیہ سبھا کی کارروائی 13 مارچ تک ملتوی

نئی دہلی :راجیہ سبھا کی کارروائی اڈانی معاملے کو لے کر اپوزیشن ارکان کے نعرے بازی کے درمیان 13 مارچ کی صبح 11 بجے تک کے لئے ملتوی کر دی گئی۔ آپ کو بتا دیں کہ بجٹ سیشن کا دوسرا اجلاس 13 مارچ سے شروع ہوگا۔ قائد اپوزیشن ملکارجن کھرگے کی تقریر کے ختم ہونے کے بعد اپوزیشن کے ارکان نے پارلیمنٹ میں ہنگامہ آرائی کی۔ اس کے علاوہ اپوزیشن اڈانی بحران کے معاملے پر جے پی سی کے ذریعہ تحقیقات کے مطالبہ پر اٹل ہے۔اس سے قبل اپوزیشن ارکان کی ہنگامہ آرائی کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی 11.50 بجے تک ملتوی کر دی گئی تھی۔ اپوزیشن کے ارکان پارلیمنٹ مودی۔اڈانی بھائی بھائی، دیش بیچ کر کھائے ملائی جیسے نعرے لگا رہے تھے۔ کارروائی 11.50 بجے دوبارہ پھر شروع ہوئی، لیکن اپوزیشن نے پھر ہنگامہ شروع کر دیا۔ اسپیکر نے اپوزیشن کو منانے کی کوشش کی۔ لیکن اپوزیشن کے اراکان نعرے بازی کرتے رہے، جس کے بعد چیئرمین نے راجیہ سبھا کی کارروائی 13 مارچ تک کے لئے ملتوی کر دی۔راجیہ سبھا میں ملکارجن کھرگے نے دعویٰ کیا کہ رجنی پاٹل کو حکومت کے دباؤ میں معطل کیا گیا تھا۔ چیئرمین جگدیپ دھنکھر نے رجنی پاٹل کو کارروائی سے ہٹانے کا حکم دیا۔ اس دوران حکمراں پارٹی نے مودی۔مودی ہائے ہائے کے نعرے لگائے۔اس کے ساتھ ہی راجیہ سبھا میں بجٹ اجلاس کا پہلا مرحلہ اختتام کو پہنچا۔اسپیکر جگدیپ دھنکر نے وقفہ سوالات کے آغاز کے ساتھ ہی ایوان کی کارروائی ملتوی کرنے کا اعلان کیا۔ پہلے انہوں نے وقفہ سوالات چلانے کی کوشش کی لیکن کانگریس کے رکن پرمود تیواری نے ہنڈنبرگ کی رپورٹ پر مشترکہ پارلیمانی کمیٹی (جے اے سی) کے قیام کا مطالبہ کیا اور رجنی پاٹل کی معطلی کا مسئلہ اٹھایا۔چیئرمین نے کہا کہ اپوزیشن ایوان چلانے میں تعاون نہیں کرنا چاہتی۔ انہوں نے کہا کہ اراکین کو عوامی توقعات کے مطابق کام کرنا چاہیے لیکن نعرے لگانے والے اراکین پر اس کا کوئی اثر نہیں ہوا۔ اس سے قبل بھی وقفہ صفر کے دوران کانگریس، عام آدمی پارٹی سمیت بیشتر اپوزیشن جماعتوں کے اراکین کی ہنگامہ آرائی اور نعرے بازی کی وجہ سے راجیہ سبھا کی کارروائی روک دی گئی تھی اور محترمہ رجنی پاٹل کی معطلی کو منسوخ کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے اجلاس کو 20 منٹ کے لیے ملتوی کرنا پڑا تھا۔صبح ایوان کی کارروائی شروع کرتے ہوئے دھنکرنے کہا کہ آج دو اراکین نے ضابطہ 267 کے تحت نوٹس دیا ہے ، جس میں ایک نوٹس عام آدمی پارٹی کے سنجے سنگھ اور دوسرا سنتوش کمار پی نے دیا ہے ۔ انہوں نے شدید ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ سنجے سنگھ نے صرف تاریخ بدل کر ایک ہی نوٹس سات بار دیا ہے جو کہ انتہائی سنگین معاملہ ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ایک ہی معاملے پر بار بار نوٹس دینا مناسب نہیں ہے ۔ انہوں نے کہا کہ آج موصول ہونے والے دو نوٹس دفعات کے مطابق نہیں ہیں اس لئے انہیں قبول نہیں کیا جا رہا ہے ۔