اڈانی نے کمپنی کے کلیدی عہدہ سے استعفیٰ کس ڈر سے دیا

   

روش کمار
آج کل گوتم اڈانی نہ صرف صنعتی بلکہ سیاسی حلقوں میں بھی موضوع بحث بنے ہوئے ہیں۔ خاص طور پر ایک ایسے وقت جبکہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ بار بار ہندوستان کو ٹیرف میں اضافہ کی ایک طرح سے دھمکیاں دے رہے ہیں اور ہمارے وزیراعظم نریندر مودی ٹرمپ کی ان دھمکیوں کا جواب دینے کی بجائے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہیں۔ بہرحال ہم بات کررہے ہیں اڈانی گروپ کے مالک اور سربراہ گوتم اڈانی کی۔ انہوں نے اپنے ہی گروپ کی سب سے بڑی کمپنی کے اگزیکٹیو چیرمین کے عہدہ سے استعفیٰ کیوں دیا؟ آخر جس کمپنی کو اڈانی نے بنایا جو کمپنی مندرا بندرگاہ کی دیکھ بھال کرتی ہے اس کے سب سے اہم اور باوقار عہدہ کو چھوڑ کر غیراگزیکٹیو عہدہ کیوں حاصل کرنے جائیں ایسا کون کرتا ہے۔ یہ اپنی ہی بنائی ہوئی کمپنی کے اگزیکٹیوچیرمین کا عہدہ چھوڑ کر خود کو فیصلہ لینے والے بااثر لوگوں سے الگ کردے۔ میڈیا میں استعفے لکھا جارہا ہے۔ عہدہ چھوڑنے کو اور کیا نام دیں گے؟ استعفے دیتے ہیں تب ہی آپ عہدہ چھوڑتے ہیں۔ اڈانی مذہبی ہوگئے ہیں ایسا نہیں لگتا۔ ایسا ہوتا تو اپنے گروپ کی تمام کمپنیوں سے الگ ہوجاتے تو معاملہ کچھ نیا سیکھنے یا کرنے کا نہیں ہے۔ اڈانی نے اپنی محبوب کمپنی کا عہدہ کیوں چھوڑا؟ کیا اس لئے کہ امریکہ میں کوئی جانچ چل رہی ہے؟ مندرا بندرگاہ کا استعمال ہوا ہے۔ ایران سے تیل درآمد کرنے میں اور اسکی تحقیقات امریکہ کررہا ہے۔ مودی کے ساتھ بندھے ہوئے ہے کیونکہ مودی اے اے اور روسی تیل کے درمیان جو مالی لین دین ہے اس کے سامنے آجانے کا خطرہ ہے۔ راہول گاندھی نے AA کسے کہا؟ شاید امبانی اور اڈانی کو ہی لیکن پہلی لائن میں اڈانی کا صاف صاف ذکر کرتے ہیں کہ امریکہ میں اڈانی کے خلاف جو تحقیقات ہورہی ہے اس کی وجہ سے وزیراعظم مودی ٹرمپ کی دھمکیوں کے آگے خاموش رہ جاتے ہیں۔ وزیراعظم مودی نے ابھی تک ٹرمپ کا نام لیکر ان کی دھمکیوں کا جواب نہیں دیا ہے یہی بتادیں کہ راہول گاندھی کا یہ بیان ایک سچے ہندوستانی کی طرح ہے یا نہیں کہ روس سے تیل کی درآمد میں پیسے کے لین دین میں وزیراعظم نریندر مودی اور AA کا کوئی رشتہ ہے یا نہیں۔ راہول گاندھی کے الزامات پر بھی وزیراعظم کا جواب نہیں آتا ہے استعفیٰ اڈانی نے کیوں دیا اس پر اڈانی گروپ نے گلف نیوز کو جواب دیا ہے۔ کہا ہیکہ کمپنی ایکٹ کے موجودہ اصولوں پر عمل آوری کیلئے یہ بدلاو کیا گیا جو ایک سے زیادہ کمپنی میں اہم عہدوں پر فائز رہنے سے روکتا ہے۔ کیا اصولوں کا خیال اچانک آیا ہے۔ پہلے وہ اس کا خیال نہیں رکھ رہے تھے۔ اڈانی اگزیکٹیو صدرنشین کے عہدہ پر کب سے ہیں جب بنے تب کیا یہ اصول نہیں تھا؟ یا اس کا خیال اب آیا ہے۔ اڈانی گروپ کے حساب سے دیکھیں تو اڈانی پورٹ اینڈ اسپیشل اکنامک زون APSEZ ان کی سب سے اچھی کمپنیوں میں سے ہے اس کمپنی کا ٹیرف اور قریب تین لاکھ کروڑ بتایا جاتا ہے۔ یہ کمپنی ہندوستان کی 14 بندرگاہوں اور ٹرمنل کا بندوبست یا دیکھ بھال کرتی ہے۔ کیرالا سے لیکر مغربی بنگال تک گوتم اڈانی کو اگر کسی اصول کے تحت اڈانی گروپ کے کسی کمپنی کے اگزیکٹیو چیرمین کا عہدہ چھوڑنا ہی تھا وہ کسی اور کمپنی کا عہدہ بھی چھوڑ سکتے تھے۔ اپنی سب سے اچھی کمپنی کے اگزیکٹیو چیرمین کا عہدہ کیوں چھوڑا؟ خود کو اس کمپنی میں فیصلہ لینے والے بااثر لوگوں سے الگ کیوں کرنا چاہیں گے؟ گلف نیوز نے لکھا ہیکہ یہ قدم ہندوستان کے کمپنی ایکٹ 2013 کے سیکشن 203 کے مطابق ہے۔ کسی کمپنی میں الگ الگ اگزیکٹیو ذمہ داری سنبھالنے والے کتنے Key Managerial Personal یعنی KMG ہوسکتے ہیں اس کی تعداد طئے ہوتی ہے۔ ایک کمپنی میں سی ای او یا ایم ڈی یا صدرنشین کا عہدہ سنبھالنے والا شخص کسی دوسری کمپنی میں ویسا ہی عہدہ نہیں سنبھال سکتا ہے۔ اربوں روپیوں کی کمپنی چلاتے ہیں تو ظاہر ہے اگزیکٹیو چیرمین بننے سے پہلے ان اصولوں کا پتہ تو ہوگا۔ کمپنی ایکٹ 2013 کے سیکشن 203 کا انہیں نہیں پتہ ہوگا تو کمپنی کے دوسرے عہدیداروں کو پتہ ہوگا، پھر ایسی غلطی کیسے ہوگئی؟ گوتم اڈانی کا عہدہ چھوڑنا بھی جگدیپ دھنکر کے استعفیٰ کی طرح ایک معمہ بن کر رہ گیا ہے۔ آج تک ہندوستان کے کسی سچے ہندوستانی کو نہیں معلوم کہ جگدیپ دھنکڑ نے استعفیٰ کیوں دیا اور نہ جگدیپ دھنکڑ ایک سچے ہندوستانی کی طرح ملک کو حقیقت بتانے کی ضرورت سمجھتے ہیں۔ 5 اگست کو خبر تو یہاں سے آنے والی تھی لیکن ملک کے عوام ابھی تک سمجھ نہیں پارہے ہیں کہ 10 مئی کو جنگ بندی کی گئی۔ اس کے دو ماہ بعد این ڈی اے کے ارکان پارلیمنٹ مودی کو جیت کی مالا کیوں پہنارہے ہیں کیا اس لئے گودی میڈیا اور آئی ٹی سل نے ماحول بنایا کہ 5 اگست کا مبارک دن گوتم اڈانی سے ان کی سب سے عزیز کمپنی کے اگزیکٹیو چیرمین کا عہدہ مانگ لے گا اور وہ اسے چھوڑ دیں گے۔ میڈیا میں دو قسم کی تھیوری چل رہی ہے کیا اس کا تعلق اس خبر سے ہے جو وال اسٹریٹ جرنل میں شائع ہوئی۔ جون کے ماہ میں یہ پورٹ شائع ہوئی تھی کہ امریکہ اس بات کی تحقیقات کررہا ہے کہ ایران سے Liquid Petroleum گیس کی درآمد مندرا بندرگاہ کے ذریعہ کی گئی تھی یا نہیں۔ امریکہ نے ایران پر پابندیاں عائد کی ہیں۔ جب یہ خبر شائع ہوئی تب اڈانی گروپ نے تحقیقات کی بات سے انکار کیا تھا کہا تھا کہ ہم کسی ایسی تحقیقات کے بارے میں نہیں جانتے۔ یہ بھی کہا جارہا ہیکہ APSEZ اڈانی گروپ کی مضبوط کمپنی ہے۔ اگر تحقیقات کی وجہ سے گوتم اڈانی پر پابندی لگ گئی تو کمپنی کیلئے مشکل ہوجائے گی۔ اس لئے انہوں نے یہ عہدہ چھوڑ دیا۔ 31 جولائی کو امریکہ نے 6 ہندوستانی کمپنیوں پر ایران سے ایندھن درآمد کرنے کی وجہ سے پابندی عائد کی تھی۔ ان 6 کمپنیوں میں اڈانی گروپ کی تو کوئی کمپنی نہیں تھی لیکن گلف نیوز نے لکھا ہیکہ اس کی تحقیقات ہورہی ہے کہ مندرا بندرگاہ کا اس میں کوئی کردار ہے یا نہیں اس کا استعمال ہوا ہے یا نہیں درآمدات میں۔ ایک تھیوری یہ بھی ہیکہ رشوت خوری کے معاملہ میں امریکہ میں جو تحقیقات چل رہی ہے اس کی وجہ قرض ملنے میں مشکلات پیش آسکتی ہیں اس وجہ سے بھی انہوں نے اپنی ہی کمپنیوں کے اہم ترین عہدہ سے استعفیٰ دے دیا۔
ٹرمپ کی دھمکیاں
ٹرمپ ہندوستان کو بار بار دھمکیاں دیتے رہے اور مودی جی نے ہر بار خاموشی اختیار کی۔ بہرحال آخرکار ہندوستان کو ٹرمپ کی دھمکیوں کا جواب دینا پڑ گیا۔ یہ جواب بھی کیسا کہ وزیراعظم مودی نے یہ جواب نہیں دیا۔ وزیرخارجہ ایس جئے شنکر اور وزیرداخلہ نے نہیں دیا۔ وزارت امورخارجہ نے ایک پریس نوٹ کے ذریعہ دیا ہے جس سے حکومت کے حامیوں میں ایسی توانائی آ گئی ہے کہ ہندوستان نے ٹرمپ کو دکھا دیا جواب دے دیا لیکن اسی سے وہ دبا ہوا سوال بھی اٹھ کھڑا ہوا ہے کہ اگر ہندوستان کی تیل ریفائنریز یا کمپنیوں کیلئے روس سے تیل درآمد کیا جارہا ہے تو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتیں کم ہیوں نہیں ہے۔ کیا حکومت اس سوال کا جواب ہندوستان کی عوام کو دے پائے گی جو پریس نوٹ سے ٹرمپ کو جواب دینے کا دم بھررہی ہے۔ اس پریس نوٹ میں بھی ٹرمپ کا نام نہیں ہے۔ ہوا یہ کہ عوام بھی پوچھنے لگی ہے کہ آخر ٹرمپ ہندوستان کو لیکر ہتک آمیز انداز میں بات کئے جارہے ہیں اور وزیراعظم مودی ان کا نام لیکر ایک لفظ کیوں نہیں بولتے۔ اس کے پیچھے کی وجہ کیا ہوسکتی ہے تو اس کے جواب میں ایک پریس نوٹ جاری کیا گیا۔ لوک سبھا میں جنگ بندی کے موضوع پر وزیراعظم مودی ٹرمپ کا نام لیکر نہیں کہہ پائے۔ ٹرمپ نے 25 فیصد کا TARIFF بڑھادیا۔ ہندوستان پر جرمانہ عائد کرنے کی بات کردی۔ ہندوستان کی پالیسیوں کو گھناونا بتادیا۔ ہندوستان کو پاکستان تیل فروخت کرے گا یہ بھی مذاق کردیا۔ ہندوستان کی معیشت کو مردہ تک قرار دیا۔ آج تک ہندوستان کے وزیراعظم نریندر مودی یا کسی بھی وزیر نے ٹرمپ کے بیان کا نام لیکر جواب نہیں دیا ہے۔ ہندوستان کی معیشت دنیا کی 5 ویں بڑی معیشت سے تیسری بڑی معیشت ہوجائے گی یہ سب تو عام باتیں ہیں۔ 30 جولائی کو جب ٹرمپ نے روس سے تیل خریدنے پر جرمانہ لگانے کی بات کی تب رائٹر نے خبر شائع کی کہ ہندوستان نے روس سے تیل خریدنا بند کردیا ہے اسی دن اس خبر کی سرکاری سطح پر تردید کرنی چاہئے تھی لیکن بعد میں کہا گیا کہ ہندوستان روس سے تیل خریدنا کم نہیں کرے گا۔