حجاب اتارنے کیلئے مجبور کرنے پر لڑکیوں کاجرأتمندانہ اقدام
گلبرگہ۔کرناٹک کے اڈپی ضلع میں گورنمنٹ جی شنکر میموریل ویمنس فرسٹ کلاس ڈگری کالج میں زیر تعلیم تقریباً 60 فائنل ایئر طالبات اس وقت گھر واپس چلی گئیں جب ان کوحجاب اتارنے پرمجبورکیاگیا۔مسلم طالبات نے کالج انتظامیہ سے بحث کی کہ وزیر اعلیٰ نے وضاحت کی ہے کہ ڈگری کالجوں میں یکساں ضابطہ نہیں ہے، لیکن عہدیداروں نے کہا کہ کالج کی ترقی کمیٹی نے قواعد وضع کیے ہیں۔طالبات کا اصرار تھا کہ وہ سر ڈھانپے بغیر کلاس میں نہیں آئیں گی۔انہوں نے کہاکہ حجاب اور تعلیم دونوں ان کے لیے اہم ہیں۔ وہ یہ بھی چاہتی تھیں کہ اگر حکومت ڈگری کالجوں میں یکساں ضابطہ متعارف کرانے کا فیصلہ کرتی ہے تو کالج کمیٹی اسے تحریری طور پر دے دے۔ایک طالبہ نے صحافیوں کو بتایا کہ وزیر اعلیٰ نے واضح کیا کہ ڈگری کالجوں میں حجاب کا اصول لاگو نہیں ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ جب ہم نے اس بارے میں پوچھا تو وہ کہتے ہیں کہ یہاں صرف کالج کمیٹی کا فیصلہ لاگو ہوتا ہے۔انھوں نے کہا کہ حجاب ان کی زندگی کا ایک حصہ ہے اور وہ اسے ہر وقت کلاسوں میں پہنتی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب کوئی آپ سے اچانک اسے اتارنے کو کہے تو اسے نہیں اتارا جا سکتا۔ ہم نے کالج سے کہا ہے کہ وہ ہمارے لیے آن لائن کلاسز کا انعقاد کرے۔طالبات کا کہنا تھا کہ جب تک ہائی کورٹ اس معاملے پر کوئی فیصلہ نہیں دیتا وہ کالج نہیں آئیں گی اور کلاسز میں شرکت نہیں کریں گی۔کالج میں کلاسز خوش اسلوبی سے جاری ہیں۔ کسی بھی ناخوشگوار واقعے کو روکنے کے لیے کالج کے احاطے میں پولیس فورس کو تعینات کیا گیا ہے۔دریں اثنا، اڈپی کے ایڈیشنل سپرنٹنڈنٹ آف پولیس سدالنگپا نے میڈیا کو بتایا کہ کالج کے دوبارہ کھلنے کے دوسرے دن ضلع کے تمام کالجوں میں صورتحال پرامن ہے۔انہوں نے کہا کہ جو مسلم طالبات حجاب اتارنے کی خواہشمند تھیں انہیں گورنمنٹ جی شنکر کالج میں کلاسز میں شرکت کی اجازت دی گئی ہے۔