بھو بنیشور ( اڈیشہ )۔17؍جنوری ( ایجنسیز ) اڈیشہ کے شہر بالاسور میں 35 سالہ مسلمان کو ہجوم نے قتل کردیا۔ میڈیا کے مطابق بالاسور میں مشتعل ہجوم نے ایک شخص کو معمولی بات پر تلخ کلامی کے بعد تشدد کا نشانہ بنایا جس کی ویڈیو وائرل ہوگئی جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ مشتعل ہجوم میں شامل افراد نے ہاتھوں میں ڈنڈے، لوہے کے راڈز اور لاٹھیاں اُٹھا رکھی تھیں۔مشتعل ہجوم مسلمان شخص کو جے شری رام کا نعرہ لگا نے کیلئے مجبور کررہا ہے، انکار پر ہجوم نے اس شخص کو بیدردی سے مارنا شروع کردیا۔مسلم شخص کے سر پر کافی گہری چوٹیں آئیں اور جب بہت خون بہنے لگا تو سفاک ملزمین اسے مردہ سمجھ کر وہیں بے یار و مددگار چھوڑ گئے۔مقامی افراد نے زخمی شخص کو نیم مردہ حالت میں اسپتال منتقل کیا جہاں وہ دوران علاج زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے جاں بحق ہوگیا۔33سالہ شیخ مکران محمد کے قتل پرپولیس نے الٹا چور کوتوال کو ڈانٹے کے مصداق مقتول کیخلاف ہی گائے بچاؤ ایکٹ کے تحت مقدمہ درج کر دیا۔اس واقعے کی ویڈیو سوئیڈن کی یونیورسٹی سے منسلک پروفیسر اشوک سوائین نے سوشل میڈیا پر شیئر کی جو دنیا بھر میں انسانی حقوق کیلئے شہرت رکھتے ہیں۔پروفیسر اشوک نے کہا کہ میڈیا اور حکام اس قتل پر خاموش ہیں۔ حالانکہ ویڈیو میں تشدد کے مناظر صاف دکھائی دے رہے ہیں۔جس کے بعد پولیس پر دباؤ بڑھا اور مقتول کے بھائی کی درخواست پر قتل کی ایف آئی آر درج کر لی گئی لیکن تاحال ملزمین کی گرفتاری عمل میں نہیں لائی جا سکی۔تازہ اطلاعات کے مطابق پولیس نے پوچھ تاچھ کیلئے کئی افراد کو حراست میں لیا ہے۔
