اسکول اساتذہ کو نونہالوں کی تربیت کے مشورے انتہائی فکر انگیز
حیدرآباد۔25۔جون (سیاست نیوز) قائد ایوان مقننہ مجلس پارٹی جناب اکبر الدین اویسی کی زندگی کا مقصد محض سیاسی کامیابی حاصل کرنا نہیں رہا بلکہ وہ ملت اسلامیہ کے نونہالوں کے تعلیمی مستقبل کے ساتھ ان میں اخلاق وکردار کے فروغ کے ذریعہ انقلابی تبدیلی کے نقیب بن رہے ہیں!رکن اسمبلی چندرائن گٹہ جناب اکبر الدین اویسی جو کہ اپنی شعلہ بیانی اور سیاسی تقاریر کے دوران اپنے حریفوں پر کھلی تنقید کے لئے مشہور ہیں اگر ان کی گذشتہ چند ماہ کے دوران کی گئی تقاریر میں ملت کے نوجوانوں کو دئیے جانے والے مشورہ کے علاوہ آئندہ نسل کی تربیت کے لئے منصوبہ بندی کا مشاہدہ کیا جائے تو اس بات کا اندازہ ہوگا کہ وہ اپنی شخصیت کی چھاپ کو تبدیل کرنے میں مصروف ہیں ۔ اکبر الدین اویسی نے گذشتہ یوم اپنے8اسکولوں میں خدمات انجام دینے والے اساتذہ سے خطاب کرتے ہوئے ملت کے نونہالوں کی تربیت کے سلسلہ میں کی گئی تقریر کے دوران جو مشورے دئیے ہیں وہ موجودہ دور میں انتہائی فکر انگیز ہے۔ انہو ںنے فخرملتؒ سنٹر فار ایجوکیشنل اینڈ کیریر گائیڈنس میں منعقدہ تقریب سے خطاب کے دوران اساتذہ کو مشورہ دیا کہ وہ طلبہ کی تعلیم کے ساتھ ساتھ ان کی تربیت اور بہترین نشونما پر توجہ مرکوز کرنے کے علاوہ انہیں اخلاق و کردار کا پیکر بنانے پر توجہ دیں۔ انہو ںنے واضح طور پر کہا کہ ان کا مقصد ہر گھر میں علم کی روشنی کو پہنچانا ہے اور وہ اس مقصد کے ساتھ اویسی اسکول آف ایکسلنس کے 21 برس کا سفر طئے کرچکے ہیں۔ اکبر الدین اویسی نے معاشرہ میں اساتذہ کی اہمیت ‘ قدر و منزلت کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ ہر گھر کو علم کی روشنی سے منور کرنے کے لئے اساتذہ کا تعاون ضروری ہے۔ اساتذہ جنہیں ’معمارقوم‘ کہا جاتا ہے اگر وہ تعلیم کے ساتھ اخلاق و کردار کے فروغ کے علاوہ ان کی تربیت پر توجہ دیتے ہیں تو ایک تعلیمیافتہ ‘ ہونہار‘ باصلاحیت ‘ بااخلاق و باکردار نسل کو تیار کیا جاسکتا ہے۔ صدرنشین سالار ملت ایجوکیشنل ٹرسٹ نے اپنے خطاب کے دوران اپنی صفوں میں ڈسپلن پیدا کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ اقوام کی تعمیر و ترقی اجتماعی کوششوں کا نتیجہ ہوتی ہے اسی لئے اساتذہ کو بھی اپنی ذمہ داری پوری کرنے میں کوتاہی نہیں کرنی چاہئے ۔جناب اکبر الدین اویسی کی اس تقریر کے علاوہ جاریہ ماہ اوائل میں کی گئی ایک تقریر جس میں نوجوانوں کو رات دیر گئے تک جاگنے سے باز رہنے کا مشورہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا تھا کہ ’جو قوم صبح نہیں اٹھ سکتی وہ قوم افلاسی میں مبتلاء رہتی ہے‘‘۔ انہو ںنے کہا تھا کہ جو قوم فجر کو نہیں اٹھ سکتی وہ ناکام ہوتی ہے ‘ جو قوم فجر کو نہیں اٹھتی وہ رسواء ہوتی ہے۔اکبرالدین اویسی نے اپنے اس خطاب کے دوران کہا تھا کہ فجر کو نہ اٹھنے والی قوم دنیامیں ناکارہ و شکست خوار رہتی ہے۔ان کے ان خطابات اور ملی مسائل پر نوجوانوں اور اساتذہ کے علاوہ قوم کو جھنجھوڑنے کی کوشش سے یہ واضح ہورہا ہے کہ اکبرالدین اویسی اب سیاسی کامیابی و رہبری کی حد تک خود کو محدود رکھنے کے بجائے تعمیر نسل نو پر توجہ مرکوز کئے ہوئے ہیں۔