اکبر اویسی کے خلاف مجید اللہ فرحت کے مقابلہ کی قیاس آرائیاں

   

چندرائن گٹہ میں سیاسی ماحول گرم، پارٹی حامیوں کے دباؤ پر عنقریب فیصلہ
حیدرآباد۔/17اکٹوبر، ( سیاست نیوز) حیدرآباد کے چندرائن گٹہ اسمبلی حلقہ سے مجلس بچاؤ تحریک کے مقابلہ کی پیش قیاسیوں نے حیدرآباد کے سیاسی حلقوں میں نئی بحث چھیڑ دی ہے۔ 1999 سے اس حلقہ پر مجلس کا قبضہ ہے جس کی نمائندگی اسمبلی میں پارٹی کے فلور لیڈر اکبر الدین اویسی کرتے ہیں جنہوں نے مجلس بچاؤ تحریک کے بانی محمد امان اللہ خان مرحوم کو شکست دی تھی۔ مجوزہ انتخابات میں مجلس بچاؤ تحریک کے صدر مجید اللہ خان فرحت کے مقابلہ کی قیاس آرائیاں کی جارہی ہیں۔ سوشیل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا میں اس سلسلہ میں رپورٹس نے چندرائن گٹہ اسمبلی حلقہ کے الیکشن پر تجسس میں اضافہ کردیا ہے۔ مجلس بچاؤ تحریک کا دعویٰ ہے کہ چندرائن گٹہ کے عوام کی جانب سے مجید اللہ خان فرحت کو مقابلہ کیلئے دباؤ بنایا جارہا ہے تاہم اس سلسلہ میں پارٹی قائدین سے مشاورت کے بعد فیصلہ کیا جائے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ مجلس بچاؤ تحریک امکانی مقابلہ کی صورت میں نتائج اور اثرات کا جائزہ لے رہی ہے۔ گذشتہ دنوں ایم بی ٹی ورکرس نے ریالی منظم کرتے ہوئے مجید اللہ خان فرحت کو چندرائن گٹہ سے مقابلہ کرنے کی ترغیب دینے کی کوشش کی۔ مجید اللہ خان فرحت نے کہا کہ ایم بی ٹی کے ورکرس اور حامی چاہتے ہیں کہ میں چندرائن گٹہ سے مقابلہ کروں، میں یہ فیصلہ پارٹی پر چھوڑتا ہوں۔ پرانے شہر کے اسمبلی حلقہ جات میں 1990 کے بعد مجلس اور ایم بی ٹی کے درمیان مقابلہ رہا۔ محمد امان اللہ خان مرحوم نے مجلس سے اختلاف کرتے ہوئے 1993 میں ایم بی ٹی قائم کی تھی۔ وہ 1978 سے 1999 تک پانچ مرتبہ مجلس کے ٹکٹ پر چندرائن گٹہ اسمبلی حلقہ سے منتخب ہوئے اور 1994 میں ایم بی ٹی کے ٹکٹ پر مجلس کے امیدوار کو شکست دی تھی جبکہ 1999 میں اکبر الدین اویسی کے ہاتھوں 11920 ووٹ سے امان اللہ خان مرحوم کو شکست ہوئی جس کے بعد سے اس نشست پر مجلس کا قبضہ ہے۔ ڈاکٹر قائم خان مرحوم نے 2004، 2009 اور 2014 میں اس حلقہ سے مقابلہ کیا تھا جبکہ 2018 میں مصطفی محمود نے ایم بی ٹی کے ٹکٹ پر چندرائن گٹہ سے مقابلہ کیا۔ توقع ہے کہ چندرائن گٹہ کے امیدوار کے بارے میں ایم بی ٹی عنقریب فیصلہ کرے گی۔