اکریڈیشن کارڈز کی اجرائی میں اردو صحافیوں کے ساتھ ناانصافی، صرف 8 کارڈجاری

   

عادل آباد۔ ریاست تلنگانہ میں اردو زبان کو دوسری سرکاری زبان کا درجہ حاصل ہونے کے باوجود ضلع عادل آباد میں اردو سے نمائندگی کرنے والے اردو اخبارات اور نیوز چیانل رپورٹرس کے ساتھ ناانصافی کی جارہی ہے۔ عادل آباد میں اکریڈیشن کارڈز کمیٹی کا اجلاس ایڈیشنل ضلع کلکٹر کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں مختلف زبانوں سے تعلق رکھنے والے اخباری نمائندوں اور ٹی وی چیانل رپورٹرس جملہ 193 کو مسلمہ حیثیت دیتے ہوئے اکریڈیشن کارڈز جاری کیا گیا جس میں اردو سے تعلق رکھنے والے صرف 8 رپورٹرس شامل ہیں۔ اکریڈیشن کمیٹی اجلاس میں اردو نمائندوں کے ساتھ ناانصافی پر اردو میڈیا میں مایوسی چھائی ہوئی ہے جبکہ دیگر زبانوں کے نمائندوں کی فہرست میں ایسے افراد کو مسلمہ حیثیت دی گئی جن کا اخبار عادل آباد میں کبھی نظر سے نہیں گذرتا۔ اس کے علاوہ ایسے افراد جن کا اردو سے کوئی تعلق نہیں وہ اپنا نام یا اپنے اخبار کا نام اردو میں تحریر نہیں کرسکتے انہیں مسلمہ حیثیت دی گئی۔ حکومت کی اسکیم سے استفادہ کرنے کی غرض حیدرآباد میں مختلف زبانوں میں شائع ہونے والے اخبار انتظامیہ کو معاوضہ ادا کرکے انتظامیہ کی جانب سے بحیثیت رپورٹر اکریڈیشن لئے گئے۔ اسلحہ خانہ چلانے والے، چائے فروخت کرنے والے، دودھ، فروٹ فروخت کرنے والے افراد جن کا صحافت سے کوئی تعلق نہیں انہیں اکریڈیشن جاری کیا گیا جبکہ اس کے برعکس اردو صحافت سے وابستہ 40 سالہ خدمات کے نمائندوں کو مسلمہ حیثیت سے محروم کیا گیا۔ اردو صحافت سے وابستہ افراد نے انفارمیشن پبلک ریلیشن کمشنر حیدرآباد سے خواہش کی ہے کہ وہ عادل آباد میں جاری کردہ اکریڈیشن فہرست پر نظرثانی کرتے ہوئے اردو کے ساتھ انصاف کریں۔