اکسائز ڈیوٹی میں کٹوتی کے باوجود قیمتیں برقرار:پون کھیڑا

   

نئی دہلی، 27 مارچ (یو این آئی) کانگریس کے سینئر رہنما پون کھیڑا نے جمعہ کو پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں کمی کی رپورٹس پر مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ حالیہ مالیاتی تبدیلیوں کے باوجود صارفین کو کوئی حقیقی ریلیف نہیں ملا ہے ۔ مغربی ایشیا کے بحران کے پیش نظر، حکومت نے جمعہ کو مقامی کھپت کیلئے پٹرول اور ڈیزل پر مرکزی اکسائز ڈیوٹی میں فی لیٹر 10 روپے کی کمی کی اور کہا کہ اس اقدام سے صارفین کو قیمتوں میں اضافے سے تحفظ ملے گا۔ مزید برآں، ڈیزل کی برآمدات پر 21.5 روپے فی لیٹر اور اے ٹی ایف (ہوائی جہاز کے ایندھن) پر 29.5 روپے فی لیٹر ڈیوٹی عائد کی گئی ہے ۔ ایک بیان میں کھیڑا نے کہا کہ ایندھن کی قیمتوں میں ’کمی‘کے دعوے والی سرخیاں گمراہ کن ہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر آپ نے پٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں ’کمی‘ کے بارے میں سرخیاں دیکھیں اور سوچا کہ حکومت نے آپ کی جیب کو ریلیف دیا ہے تو آپ غلط فہمی میں ہیں، کیونکہ ڈیلرز اور صارفین کیلئے قیمتیں اب بھی وہی ہیں۔ انہوں نے وضاحت کی کہ حکومت نے ریٹیل قیمتوں میں کٹوتی کے بجائے ‘خصوصی اضافی اکسائز ڈیوٹی’ کو کم کیا ہے ، جو آئل مارکیٹنگ کمپنیوں پر عائد ایک لیوی ہے ۔ کھیڑا کے مطابق، اس اقدام سے عوام کیلئے فوری بچت ممکن نہیں ہے ۔ انہوں نے کہاکہ جو چیز اصل میں کم کی گئی ہے وہ ‘خصوصی اضافی اکسائز ڈیوٹی ہے ۔ یہ وہ ٹیکس ہے جو آئل مارکیٹنگ کمپنیاں حکومت کو ادا کرتی ہیں۔ ’خصوصی‘اور ’اضافی‘کے الفاظ خود بتاتے ہیں کہ یہ ٹیکس کتنا غیر ضروری ہے ۔ کانگریس رہنما نے مزید نشاندہی کی کہ مغربی ایشیا میں تنازعہ شروع ہونے کے بعد سے تیل کمپنیاں مالی دباؤ کا شکار ہیں اور وہ صارفین پر بوجھ ڈالے بغیر نقصانات برداشت کر رہی ہیں۔ انہوں نے حکومت کے اس فیصلے کو ایک تاخیر سے کیا گیا محدود اقدام قرار دیتے ہوئے کہا، حکومت نے اب محض اس بوجھ کا ایک چھوٹا سا حصہ بانٹنے پر اتفاق کیا ہے ، وہ بھی تقریباً ایک ماہ بعد۔
، لیکن یہ ایندھن کی زیادہ قیمتوں سے جوجھنے والے عام شہریوں کے خدشات کو دور نہیں کرتا۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ وہ “مصنوعی سرخیوں” کے بجائے قیمتوں میں ٹھوس کمی کو ترجیح دے ۔ ہندوستان میں ایندھن کی قیمتوں کا تعین ہمیشہ سے ایک حساس سیاسی مسئلہ رہا ہے ، جس پر عالمی خام تیل کی قیمتیں، شرح مبادلہ اور مرکزی و ریاستی ٹیکس اثر انداز ہوتے ہیں۔ جہاں حکومت وقتاً فوقتاً اکسائز ڈیوٹی میں ردوبدل کرتی رہتی ہے ، وہیں اپوزیشن جماعتیں اکثر الزام لگاتی ہیں کہ خام تیل کی کم قیمتوں کا پورا فائدہ صارفین تک نہیں پہنچایا جاتا۔