لکھنؤ:02 جنوری(یواین آئی) سماج وادی پارٹی(ایس پی) صدراکھلیش یادو نے ایس آئی آرکی غیرجانبداری پر شبہ کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اگر ووٹروں کی تعداد میں ریاستی الیکشن کمیشن اورمرکزی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار میں فرق آتا ہے تو ایس آئی آر مہم کا کوئی مطلب نہیں رہ جائے گا۔ پارٹی کے ریاستی ہیڈکوارٹرپرکارکنوں کی نئے سال کی مبارکباد قبول کرتے ہوئے انہوں نے کارکنوں اور لیڈروں سے کہا کہ وہ بوتھ کی سطح پر پارٹی کو مزید مضبوط کرنے میں مصروف ہو جائیں۔ ووٹر لسٹ کو لے کر ہو رہے ایس آئی آر پر پوری نظر رکھیں۔ جن لوگوں کا نام ووٹر لسٹ میں شامل نہیں ہو پایا ہے انہیں شامل کرائیں۔ جس وقت وزیر اعلیٰ یوگی نے کہا تھا کہ چار کروڑ ووٹ کٹ گئے ہیں، اسی وقت انہوں نے افسران کو بے ایمانی کرنے کا پیغام دیا تھا۔ یادو نے کہا “اس وقت جس طرح کے ڈیٹا اور اعداد و شمار آئے ہیں، اس میں الیکشن کمیشن اور افسران کو اپنی ساکھ (کریڈیبلٹی) ثابت کرنی ہے ۔ ہمیں امید ہے کہ الیکشن کمیشن، میپنگ ایپ اور جو کمپنیاں الیکشن کمیشن کی تکنیکی طور پر مدد کر رہی ہیں، وہ غیر جانبدار ہوں گی۔ ریاستی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار دوسرے ہیں اور مرکزی الیکشن کمیشن کے اعداد و شمار دوسرے ہیں، تو ایس آئی آر کا کیا مطلب رہ گیا؟
