’میرا پیغام محبت ہے جہاں تک پہونچے ‘
حیدرآباد 25 جنوری ( سیاست نیوز) معاشرہ میں جب نفرت کے اندھیرے پھیل جاتے ہیں اور دلوں میں کدورتیں پیدا ہوجاتی ہیں تو انسان انسانیت کو فراموش کرکے دوسر وں کا دشمن بن جاتا ہے اور شمالی ہند میں جس طرح کی نفرت کا مظاہرہ کیا جا رہاہے اس کی مثالیں دی جاتی ہیں لیکن نامپلی اسٹیشن روڈ پر فرنیچر کی دکان میں مہلک آتشزدگی کے واقعہ میں اپنی زندگیوں کو قربان کرکے سید حبیب اور امتیاز نامی نوجوانوں نے انسانیت کو وہ درس دیا جو انسانیت کے لازوال پیام محبت کو عام کرنے کافی ہے کیونکہ دونوں نوجوانوں نے مہیب آگ میں محض اس لئے چھلانگ لگائی کیونکہ جس عمارت میں آگ لگی تھی ان میں دو معصوم بچے بھی موجود تھے اور ان کی زندگی کو بچانے کی کوشش میں یہ نوجوان آگ میں کود پڑے تھے جن کی نعشیں آج برآمد ہوئیں جو مکمل جلی ہوئی ہیں لیکن اس کے باوجود یہ پیام دے رہی ہیں کہ انہوں نے خود کو جلاتے ہوئے ’محبت‘ کے پیام کو روشن کیا ۔نامپلی اسٹیشن روڈ پر پیش آئے حادثہ کے دوران سید حبیب اور امتیاز نے جان جوکھم میں ڈال کر عمارت میں پھنسے ہوئے معصوم بچوں کو بچانے کی کوشش کی جو ناکام رہی لیکن اس کوشش میں یہ نوجوان اپنی جان گنوا بیٹھے ۔ ہندستان بالخصوص شہر میں جب کبھی آگ لگنے کا کوئی واقعہ پیش آتا ہے تو جو لوگ متاثرین کو بچانے کی کوشش کرتے ہیں ان کے نام ان کی پہچان ہوتے ہیں انہیں کپڑوں سے پہچاننے کی ضرورت نہیں ہوتی کیونکہ نومبر 2023 میں ریڈ ہلز میں لگنے والی آگ کے متاثرین کو بچانے محمد غوث نے اپنی جان جوکھم میں ڈال کر کوشش کی تھی اور کئی افراد کو آگ کا شکار ہونے سے بچانے میں کلیدی کردا ر ادا کیا تھا‘ اس کے بعد مئی 2025 میں تاریخی چارمینار کے دامن میں گلزار حوض کے قریب لگنے والی آگ جس میں 17 افراد لقمۂ اجل بن گئے تھے انہیں بچانے کی کوشش کرنے والوں کے نام بھی میر زاہد اور محمد عظمت تھے اور ان نوجوانوں کو اپنی جان جوکھم میں ڈال کر ان افراد کو بچانے کی کوشش کی جنہیں وہ جانتے تک نہیں تھے لیکن انہیں کثیف دھوئیں اور دیگر وجوہات کی بناء پر کامیابی نہیں ملی لیکن ان کے نام ’زاہد اور عظمت ‘ تھے۔ نامپلی میں آگ لگنے کے واقعہ میں 11 سالہ پرنیت اور 7 سالہ اکھل اور 50 سالہ محترمہ بی صاحبہ کی جان بچانے 30 سالہ سید حبیب اور 26 سالہ محمد امتیاز جو کہ اس آگ کی لپیٹ کا شکار ہونے سے محفوظ رہنے میں کامیاب ہوچکے تھے لیکن آگ میں پھنسے معصوم بچوں کو بچانے دوبارہ آگ میں کود پڑے اور ان کی جلی ہوئی نعشیں آج دستیاب ہوئیں جو خاموش پیغام دے رہی تھیں کہ نفرتوں کا زہر خواہ کتنا ہی پلایا جائے لیکن انسان کو نفرت کا شکار ہونے کے بجائے انسانیت کو پامال ہونے سے بچانے اپنی زندگی بھی قربان کرنے سے گریز نہیں کرنا چاہئے ۔3