اگر دفعہ 370 عارضی ہے تو کشمیر کا ہندوستان سے الحاق بھی عارضی : فاروق عبداللہ

,

   

جموں، یکم جولائی (سیاست ڈاٹ کام) نیشنل کانفرنس کے صدر و رکن پارلیمان ڈاکٹر فاروق عبداللہ نے کہا ہے کہ اگر دفعہ 370 عارضی ہے تو جموں کشمیر کا ہندوستان کے ساتھ الحاق بھی عارضی ہے اور رائے شماری ہونے کے بعد ہی یہ دفعہ ختم ہوسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ریاست میں بات چیت کے بغیر ملی ٹنسی ختم نہیں ہوگی۔ فاروق عبداللہ نے ضلع کٹھوعہ کے لکھن پور میں میڈیا کے ساتھ بات چیت کے دوران وزیر داخلہ امت شاہ کے بیان کہ دفعہ 370 ایک عارضی دفعہ ہے ، پر اپنا ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا: ‘اگر دفعہ 370 عارضی ہے تو الحاق بھی عارضی ہے مہاراجہ جموں کشمیر نے جب یہ الحاق کیا تو یہ عارضی الحاق تھا اور دفعہ 370 بھی عارضی تھی اور اس وقت کہا گیا کہ رائے شماری کے بعد فیصلہ ہوگا، جب رائے شماری ہی نہیں ہوئی تو دفعہ کیسے ہٹے گی۔ موصوف نے کہا کہ مسئلہ کشمیر کے حل کے لئے بات چیت ہر ایک کے ساتھ ہونی چاہئے ۔ ان کا کہنا تھا کہ بات چیت ہر ایک کے ساتھ ہونی چاہئے اگر ہم نے اس مسئلے کا حل نکالنا ہے جو ہمیں اتنے سالوں سے خراب کررہا ہے ، واجپئی نے بات کی، ایڈوانی نے بات کی، مشرف نے بات کی’۔ فاروق عبداللہ نے کہا کہ بات چیت کے بغیر یہاں ملی ٹنسی ختم نہیں ہوگی۔ انہوں نے کہا: ‘جب تک بات چیت نہیں ہوگی تب تک ملی ٹنسی ختم نہیں ہوگی، اگر مسئلہ حل کرنا ہے تو بات چیت سے حل کرنا ہوگا، ہم لوگوں نے بہت طوفان دیکھے ، ہماری تجارت ختم ہوگئی، غریبی بڑھ رہی ہے ، تعلیم یافتہ نوجوان بے کار ہیں، ہمارے ڈاکٹر بے کار ہیں، انجینئر بے کار ہیں ، آخر کب تک’۔ نیشنل کانفرنس کے صدر نے کہا کہ بالاکوٹ حملے کے بعد کہا گیا کہ تین سو مر گئے لیکن آج امت شاہ خود ہی کہہ رہے ہیں کہ کوئی نہیں مرا، انہیں ملک کے عوام سے معافی مانگنی چاہئے ۔ انہوں نے کہا: ‘بالاکوٹ جب ہوا تو ان لوگوں نے کہا کہ وہاں تین سو مر گئے آدھوں نے کہا وہاں پانچ سو مرگئے لیکن آج خود ہی امت شاہ کہتے ہیں کہ وہاں کوئی نہیں مرا، یہ جو کہانی ان لوگوں نے بنائی یہ کس لئے بنائی گئی، ووٹ لینے کے لئے ، آج ان کو ہندوستان کے لوگوں سے معافی مانگنی چاہئے ‘۔ سالانہ امرناتھ یاترا کے حوالے سے ڈاکٹر فاروق نے کہا: ‘یاترا مبارک کی بات ہے ، میں خود 2 تاریخ کو انتطامات کا جائزہ لینے کئے جارہا ہوں، کسی بھی مذہب کا آدمی کسی مذہب کے خلاف نہیں ہے ، ہم سمجھتے ہیں کہ اس سے مذہب مضبوط ہوتا ہے اور جب مذہب مضبوط ہوگا تو انسان مضبوط ہوگا’۔ انہوں نے کہا کہ پی ڈی پی اور بی جے پی نے ریاست کا بیڑا غرق کیا ہے ۔