نکہت خان سے خوشبو پرانی بات ہے ، حکومت کی مخالفت ملک دشمنی نہیں
حیدرآباد ۔ 20 ۔ جنوری : ( سیاست ڈاٹ کام ) : کانگریس کی ترجمان اور ہندی ، ٹامل اور ملیالم فلموں کی ممتاز اداکارہ خوشبو سندر بی جے پی اور سنگھ پریوار پر شدید تنقید کے لیے شہرت رکھتی ہیں ۔ ان کے بیانات سے اکثر سنگھ پریوار کے قائدین و کارکن تلملا اٹھتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ دائیں بازو کے عناصر خوشبو کا جو دو بچوں کی ماں ہے سوشیل میڈیا پر تعاقب کرتے ہوئے ان کے خلاف توہین آمیز الفاظ بھی استعمال کرتے ہیں ۔ آپ کو بتادیں کہ خوشبو کی پیدائش بمبئی ( ممبئی ) کے ایک مسلم خاندان میں ہوئی ۔ یہی وجہ ہے کہ بی جے پی والے انہیں نکہت خان کہہ کر بلاتے ہیں تاکہ یہ تاثر دیا جائے کہ خوشبو مسلمان ہے اور اسی وجہ سے وہ بی جے پی اور سنگھ پریوار کو نشانہ بناتی رہتی ہیں ۔ خوشبو نے اپنے فلمی کیرئیر کا آغاز 1980 کی فلم دی برننگ ٹرین میں ایک چائلڈ آرٹسٹ سے کیا بعدمیں فلم نصیب ، لاوارث ، کالیا ، درد کا رشتہ اور بے مثال میں بھی انہوں نے چائلڈ آرٹسٹ کی حیثیت سے کام کیا ۔ حال ہی میں دئیے گئے ایک انٹرویو میں خوشبو نے نکہت خان سے متعلق بتایا کہ ساری دنیا جانتی ہے کہ وہ ایک مسلم خاندان میں پیدا ہوئی ۔ اس سوال پر کہ پچھلے چند برسوں سے ملک میں جو تبدیلیاں آئی ہیں اس تعلق سے ان کا کیا احساس ہے ؟ خوشبو کا کہنا تھا کہ جب ہم نئے ہندوستان کی بات کرتے ہیں تو ان کا احساس ہے کہ ہم پتھر کے زمانے کی طرف واپس جارہے ہیں ۔ بی جے پی کے اقتدار میں آنے سے قبل کسی کو بھی اس بات کی فکر نہیں تھی کہ میں ( خوشبو ) کس مذہب کی ماننے والی ہوں اور میں کہاں سے آئی ہوں۔ خوشبو کے مطابق چونکہ وہ کانگریس سے تعلق رکھتی ہیں اس لیے جمہوری انداز میں اپنی رائے کا اظہار کرتی ہیں ویسے بھی اپوزیشن کا یہ فرض ہے کہ وہ حکومت کی ناکامیوں کو اجاگر کرے اور اسے آئینہ دکھائے ۔ خوشبو یہ بھی بتاتی ہیں کہ ایک ہندوستانی شہری ہونے کے ناطے وہ حکومت کے ہر غلط قدم پر تنقید کرتی رہی ہیں لیکن اچانک کچھ لوگ یہ بتانے کی کوشش کرنے لگے ہیں کہ ان ( خوشبو ) کا حقیقی نام نکہت خان ہے ۔ سوشیل میڈیا پر ان کا تعاقب کرنے والے انہیں ’’ پاکستان جاؤ ‘‘ تک کہتے ہیں ۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ کیا پاکستان واحد ملک ہے جہاں مسلمان بستے ہیں ؟ خوشبو یہ بھی سوال کرتی ہیں کہ ہم ہندوستان میں رہ رہے ہیں اب ہی تفریق پیدا کیوں کی جارہی ہے ؟ لوگوں کو مذہب کے نام پر تقسیم کیوں کیا جارہا ہے ؟ اگر مجھ ( خوشبو ) کے ساتھ ایسا ہورہا ہے تو ان جیسے دوسرے ہندوستانیوں کے ساتھ کیا ہورہا ہوگا ۔ خوشبو مزید بتاتی ہیں کہ آج ہم جو ہندوستان کو دیکھ رہے ہیں وہ افقی ہے اور ہمیں عمودی طور پر تقسیم کیا جارہا ہے ۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ صرف ایک مذہب کی برتری چاہتے ہیں ۔ اپنے انٹرویو میں خوشبو نے مودی حکومت کے خلاف ملک میں پیدا ہوئی مزاحمت کے بارے میں بھی بتایا اور کہا کہ اگر آپ ( حکومت ) یہ کہہ کر اقلیتوں کو دیوار سے لگائے گی کہ تم سب ہم سے کمتر ہو تو فطری طور پر وہ اس کا جواب دینا چاہیں گے اور اگر آپ نا انصافی کا راستہ اختیار کرنے والی حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں تو پھر آپ کو ملک دشمنی اور ایک دہشت گرد قرار دیا جاتا ہے ۔ یہ ہندو مسلم کے درمیان تفریق نہیں بلکہ ہندوؤں کے طبقات میں بھی تفریق پائی جاتی ہے ۔ آج عوام کو سیاسی فوائد کے لیے تقسیم کیا جارہا ہے۔ طلاق ثلاثہ جیسے مسئلہ کے ذریعہ یہ بتانے کی کوشش کی جارہی ہے کہ ہم اقلیتی خواتین کی بہتری چاہتے ہیں ۔ جہاں تک وزیراعظم کا سوال ہے وہ ملک کے وزیراعظم ہیں ۔ آیا انہیں لوگ ووٹ دیں یا نہ دیں تمام ہندوستانی شہریوں کے تئیں وزیراعظم کی ایک ذمہ داری بنتی ہے اور اس میں ہر کمیونٹی قبائل اور طلبہ شامل ہیں ۔ خوشبو کے مطابق جب سے بی جے پی اقتدار میں آئی ہے بھائی چارگی کی ہندوستانی روایت کو شدید نقصان پہنچا ہے اور خاص طور پر خواتین کا برا حال ہے ۔ اس حکومت میں بدقماش عناصر خواتین بالخصوص اداکاراوں کو سر عام فاحشہ اور سیکس ورکر کہہ رہے ہیں۔ تعلیم یافتہ لوگ بھی اس قسم کی گندی زبان استعمال کرنے لگے ہیں ۔ 6 برسوں کے دوران لوگوں کے خون میں منفی سوچ اور نفرت و فرقہ پرستی کا زہر گھول دیا گیا ہے ۔ اگر دیکھا جائے تو پہلے کا دور ہی بہتر تھا ۔ اپنے انٹرویو میں خوشبو نے یہ بھی انکشاف کیا کہ بی جے پی آئی ٹی سیل نفرت پھیلانے کے لیے فی ٹرال 2 روپئے کی قیمت مقرر کر رکھی ہے ۔ خوشبو کا یہ کہنا بھی تھا کہ وہ اور ان کے بھائیوں نے دوسرے مذاہب میں شادیاں کی ہیں اور نکہت خان سے خوشبو تک کا سفر بہت پرانا ہوچکا ہے ۔ انہوں نے دیپکا پڈکون کے خلاف سنگھ پریوار کی جاری مہم اور فلم چھپاک کے بائیکاٹ پر بھی اظہار خیال کیا ۔ ان کا کہنا تھا کہ کنہیا کمار اور آئشی گھوش کے ساتھ ٹہرنے پر فرقہ پرست طاقتیں چراغ پا ہوجاتی ہیں ۔ دیپکاپڈکون کو اس سے پہلے بھی مذہب کے ٹھیکیداروں کی برہمی اور معاندانہ مہم کا سامنا کرنا پڑا تھا ۔۔