اگسٹ کے اواخر میں ملک میں کورونا کی تیسری لہر کا آغاز ممکن

   

Ferty9 Clinic

ماہرین صحت کی حکومت کو رپورٹ، کیرالا، مہاراشٹرا اور آندھراپردیش میں کیسیس کی تعداد میں اضافہ

حیدرآباد 25 جولائی (سیاست نیوز) ملک میں کورونا کی دوسری لہر سے کئی ریاستوں کو ابھی تک مکمل نجات نہیں ملی لیکن ماہرین نے اگسٹ سے تیسری لہر کے امکانات ظاہر کئے ہیں۔ ماہرین نے بین الاقوامی سطح پر کیسیس میں اضافہ اور ملک کی 3 ریاستوں میں گزشتہ دو ہفتوں کے دوران کورونا کے بڑھتے واقعات کے پس منظر میں یہ اندیشہ ظاہر کیا ہے کہ ہندوستان میں اگسٹ کے اواخر تک کورونا کی تیسری لہر دستک دے سکتی ہے۔ ماہرین کے مطابق مہاراشٹرا، کیرالا اور آندھراپردیش میں کیسیس کی تعداد میں اضافہ تشویش کا باعث ہے۔ اُن کا کہنا ہے کہ دوسری لہر کا ملک میں مہاراشٹرا اور کیرالا سے آغاز ہوا تھا۔ آندھراپردیش تیسری لہر کے آغاز میں معاون ثابت ہوسکتی ہے۔ بتایا جاتا ہے کہ 15 جولائی کے بعد سے تینوں ریاستوں میں کیسیس کی تعداد میں اضافہ درج کیا جارہا ہے۔ 21 جون کو دنیا بھر میں کورونا کے 2 لاکھ کیسیس منظر عام پر آئے تھے جبکہ چہارشنبہ کو ایک ہی دن میں 5 لاکھ 55 ہزار کیسیس منظر عام پر آئے۔ ماہرین نے بتایا کہ ہندوستان میں ابتدائی دونوں لہر کیرالا سے شروع ہوئے تھے اور مہاراشٹرا اور دہلی پر بُرا اثر پڑا تھا۔ موجودہ صورتحال میں کیرالا میں بڑھتے واقعات خطرہ کی گھنٹی ہوسکتے ہیں۔ مہاراشٹرا اور کیرالا میں کیسیس کے علاوہ پازیٹیویٹی کی شرح میں بھی اضافہ کا رجحان درج کیا گیا ہے۔ اضافی کیسیس کے معاملہ میں آندھراپردیش تیسرے نمبر پر ہے۔ آندھراپردیش میں 8 جولائی سے کیسیس کی تعداد میں اضافہ دیکھا گیا ہے۔ ماہرین کے مطابق تمام ریاستوں کو ابھی سے چوکسی اختیار کرنی ہوگی۔ یہی وجہ ہے کہ مرکزی حکومت نے پہلے ہی تمام ریاستوں کو تیسری لہر کے امکانات سے آگاہ کردیا ہے۔ آندھراپردیش میں مشرقی اور مغربی گوداوری، چتور، کرشنا اور گنٹور اضلاع میں کورونا کی صورتحال قابو میں نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ جگن موہن ریڈی حکومت نے رات 10 بجے سے دوسرے دن صبح 6 بجے تک نائٹ کرفیو میں مزید توسیع کردی ہے۔ مہاراشٹرا کے کئی اضلاع میں لاک ڈاؤن پابندیاں ابھی بھی برقرار ہیں۔