ممبئی۔ انڈین پریمیئر لیگ (آئی پی ایل) کے میڈیا حقوق 2023-2027 عرصہ کے 410 میچوں کے لیے 48,390 کروڑ روپے میں فروخت کرنے کے بعد، بی سی سی آئی ہرگیند سے 49 لاکھ روپے (تقریباً) ناقابل یقین حد تک کمائی حاصل کرے گا اور اگلے سیزن سے دولت سے امیر لیگ میں ہر اوور 2.95 کروڑ روپے کا ہوگا۔دنیا کا امیر ترین کرکٹ بورڈ مزید امیر ہونے جا رہا ہے کیونکہ 2023 سے ہر آئی پی ایل میچ سے انہیں 118 کروڑ روپے کمانے میں مدد ملے گی جو ہندوستان کے گھریلو کھیل سے تقریباً دوگنا (1.96 گنا) ہے۔ ہندوستانی ٹیم کے ہر گھریلو مقابلے کی اوسط قیمت ا سٹار انڈیا کی طرف سے 2018 میں پانچ سالہ معاہدے کے مطابق، جس کی قیمت 6,138 کروڑ روپے ہے اب 60 کروڑ روپے ہے۔ قابل ذکر بات یہ ہے کہ بی سی سی آئی 22-2018 سے پچھلے عرصہ میں ہر آئی پی ایل میچ سے تقریباً 55 کروڑ روپے کما رہا تھا۔ بی سی سی آئی کی طرف سے تین دن تک منعقد کی گئی اپنی نوعیت کی پہلی ای نیلامی میںاسٹار ڈیزنی نے ٹی وی میڈیا کے حقوق کو برقرار رکھا جبکہ ویکام 18 نے برصغیر پاک و ہند کے لیے انڈین پریمیئر لیگ کے 2023-27 سائیکل کی ڈیجیٹل حقوق حاصل کئے ہیں۔ ٹی وی حقوق (پیکیج اے) کے لیے اسٹار کی جیتنے والی بولی 23,575 کروڑ روپے (فی میچ 57.5 کروڑ روپے) تھی جب کہ ویکام 18 نے خصوصی طور پر ڈیجیٹل حقوق کے لیے پیکیجزبی اور سی کا دعویٰ کرنے کے لیے 23,758 کروڑ روپے خرچ کیے تھے۔ ویکام 18 کو پیکیج ڈی میں آسٹریلیا، جنوبی افریقہ، برطانیہ کے علاقوں کے حقوق بھی ملے جبکہ ٹائمز انٹرنیٹ کو مینا اور امریکہ ملے ہیں۔ مجموعی طور پر 48,390 کروڑ روپے کا اعداد و شمار جو ہندوستانی کھیلوں کی نشریاتی صنعت میں ایک بے مثال تعداد ہے، تقریباً تین گنا قیمت (16,347.50 کروڑ روپے) ہے جس پر بی سی سی آئی نے 2017 میں گزشتہ سائیکل (2018-22) کے میڈیا حقوق فروخت کیے تھے، برانڈ آئی پی ایل کی قدر جو اس کی ترقی کے لحاظ سے توقعات سے زیادہ ہے۔بی سی سی آئی کے سکریٹری جے شاہ نے کہا کہ نیلامی کے تازہ ترین دور نے آئی پی ایل کو عالمی کھیل کی بڑی لیگ میں شامل کردیا ہے۔ای نیلامی نے فی میچ میڈیا رائٹس ویلیو کے لحاظ سے آئی پی ایل کو بڑی لیگ میں شامل کردیا ہے۔ ہم نے اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ عمل تمام اسٹیک ہولڈرز کے لیے شفاف اور منصفانہ ہو۔ میں برانڈ پر یقین کرنے اور دکھانے کے لیے مارکیٹ فورسز کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔ آئی پی ایل کو نئی بلندیوں تک لے جانے کے لیے بی سی سی آئی پر ان کا اعتماد کاشکریہ۔ مجھے یقین ہے کہ ہم مل کر برانڈ آئی پی ایل کی قدر میں اضافہ کرتے رہیں گے اور اسے آمدنی، شرکت اور کارکردگی کے لحاظ سے دنیا کی سب سے بڑی کھیلوں کی لیگ بنائیں گے۔انہوں نے مزید کہا کہ کھیل میں آنے والی رقم سے کھیل کو نچلی سطح پر مدد ملے گی، بورڈ اگلے سال خواتین کے آئی پی ایل کے لیے پرعزم ہے۔خاتون آئی پی ایل کے ضمن میں انہوں نے کہا کہ پورا خیال کرکٹ اور تجارتی مفادات میں توازن پیدا کرنا ہے کیونکہ بی سی سی آئی کرکٹ کے ذریعے ملک میں کھیلوں کو فروغ دینے کے لیے پرعزم ہے جس میں ویمنس آئی پی ایل بھی شامل ہے۔