اہلِ بیت اطہارؓ پوری امت کے ایمان اور امن کے ضامن

   

محبت اہلِ بیتؓ ایمان کا حصہ، شاہی مسجد باغ عام میں مولانا احسن بن محمد الحمومی کا خطاب
حیدرآباد، 13جولائی (پریس نوٹ) مولانا ڈاکٹرحافظ احسن بن محمد الحمومی امام و خطیب شاہی مسجدباغ عام نے کہاکہ اہل بیت اطہارؓ سے تعلق اور محبت ایمان کا حصہ ہے۔ حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ لوگو! اللہ سے محبت کرو، اس لیے کہ اللہ تمہیں نعمتوں سے نوازتا ہے۔ اللہ سے محبت کی خاطر مجھ سے محبت کرو۔ اگرتم میری (حضورؐ کی) محبت حاصل کرنا چاہتے ہو تو میرے اہل بیت ؓسے محبت کرو۔ جو میرے اہل بیت ؓسے محبت کرے گا، وہ مجھ سے محبت کرے گا اور جو مجھ سے محبت کرے گا وہ اللہ سے محبت کرے گا۔حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ لوگو! اپنی اولاد کی تین بنیادوں محبت نبیؐ، محبتِ اہل بیت اور قرآن مجید کی تعلیم پر تربیت کرو۔ امت مسلمہ میں بعض لوگ وہ ہیں؛ جو نسبتِ اہلِ بیتؓ کو ہی سب کچھ سمجھ کر بے عملی اور دین سے دوری کی زندگی گزار رہے ہیں اور بعض لوگ وہ ہیں؛ جو خاندانِ نبوتؐ سے تعلق کو بالکل ہلکے میں لیتے ہیں، ان کے یہاں اس کی کوئی اہمیت ہی نہیں ہے۔ جبکہ یہ دونوں رویے غیر مطلوب ہیں۔ حضور اکرمؐ کو اپنے گھر والوں سے بے پناہ محبت اور غیرت تھی۔ محسن انسانیت محمدؐ کا خاندان بڑے احترام اور عزت والا خاندان ہے۔ حضور اکرمؐ نے فرمایا کہ میرے اہل بیتؓ پوری امت کی امان کے ضامن ہیں۔ جب روئے زمین سے میرے اہل بیتؓ ختم ہوجائیں گے، تو لوگ طرح طرح کے فتنوں میں مبتلا ہوں گے۔ رسول اللہؐ نے اپنی امت سے آخری توقع یہ کی کہ افراد امت آپؐ کے اہل بیت ؓسے محبت کریں اور ان کا ادب و احترام کریں۔ جب کہ اس امت نے محبت اہل بیت ؓ کو ایک خاص فرقہ کی جھولی میں ڈال دیا ہے، حقیقت یہ ہے کہ محبت اہل بیتؓ ایمان کا حصہ ہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے کہا کہ ماہ محرم الحرام سے اسلامی نئے سال کی شروعات ہوتی ہے۔ ماہ محرم الحرام بہت ساری یادوں کو لے کر آتا ہے۔ احترام والے مہینوں میں اس کا شمار ہوتا ہے۔ اللہ کی جانب سے ماہ محرم الحرام سیدنا آدم ؑسے لے کر روح اللہ سیدنا عیسیؑ تک ہر نبی کے لیے غیر معمولی انعامات کا مہینہ رہا ہے۔ ماہ محرم میں ہی حضرت سیدنا محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ مکرمہ سے مدینہ طیبہ ہجرت کی، وہاں یہودی قبائل آباد تھے، جو دس محرم کو روزہ رکھتے تھے۔ حضورؐ نے ان سے پوچھا کہ یہ روزہ کیوں رکھا گیاہے؟ انھوں نے عرض کیا کہ ہمارے نبی سیدنا موسیؑ کو اللہ ہی آج ہی کے دن فرعون کے ظلم سے نجات دلائی۔ اس کے شکرانے میں ہم روزہ رہتے ہیں۔ حضورؐ نے کہا کہ سیدنا موسی ؑجتنے تمہارے ہیں، اس سے زیادہ ہمارے بھی ہیں۔ حضورؐ نے حکم جاری کیا کہ اس دن مسلمان بھی روزہ رہے۔ چناں چہ رمضان کے فرض روزوں سے پہلے مسلمانوں پر عاشورہ کا روزہ فرض تھا۔ حضورؐ نے فرمایا کہ یوم عاشور کے ساتھ ایک دن قبل یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھا جائے۔ تاکہ قوم یہود کی مشابہت اختیار نہ کی جائے۔ ہر نبی پر جب بھی کوئی مصیبت آتی تو عاشورہ کے دن ان کی مصیبتوں کو ختم کیا جاتا یا انھیں کسی بڑی کامیابی یا کامرانی عطا کی جاتی۔ ماہ محرم میں ہی حضرت آدم ؑکی توبہ قبول کی گئی، حضرت نوحؑ کی گشتی ساحل پر رکی، حضرت یونسؑ کو مچھلی کے پیٹ سے نکالا گیا۔ حضرت محمدؐ کی آمد سے قبل تک اس دن کو خوشی اور انعام و اکرام کے دن کے طور پر مانا جاتا تھا۔ رسول اللہؐ کی رحلت کے پچاس سال بعد دس محرم کو واقعہ کربلا کا نہایت ہی رنج و غم اور گربناک واقعہ پیش آیا۔ واقعہ کربلا کے غم نے اس دن کی تمام خوشیوں پر پانی پھیردیا۔