اہم قلمدانوں کیلئے مہاراشٹرا حلیفوں میں اختلافات کا اعتراف

   

Ferty9 Clinic

کابینی عہدوں کے خواہشمندوں کی فہرست طویل تھی ۔ شیوسینا اخبار کا اداریہ

ممبئی 2 جنوری ( سیاست ڈاٹ کام ) شیوسینا نے آج اعتراف کیا کہ مہاراشٹرا میں تین اتحادی جماعتوں کے سینر قائدین میں کابینہ کے اہم قلمدانوں کیلئے رسہ کشی چل رہی ہے ۔ پارٹی نے کہا کہ کچھ ارکان اسمبلی کو کابینہ میں اس لئے شامل نہیں کیا جاسکا کیونکہ امکانی وزراء کی فہرست بہت طویل تھی ۔ شیوسینا نے پونے میں کانگریس کے ایک دفر میں توڑ پھوڑ پر افسوس کا اظہار کیا ہے ۔ یہ توڑ پھوڑ پارٹی رکن اسمبلی سنگرام تھوپٹے کی عدم شمولیت پر ہوئی تھی ۔ شیوسینا نے کہا کہ کانگریس نے ہمیشہ ہی شیوسینا کے احتجاج کو غنڈہ گردی کہا تھا تاہم تھوپٹے کے حامیوں نے جو کچھ کیا وہ غنڈہ گردی تھی ۔ پارٹی ترجمان اخبار سامنا کے اداریہ میں کہا کہ یہ کانگریس کلچر کے مطابق نہیں ہے ۔ چیف منسٹر ادھو ٹھاکرے نے 30 ڈسمبر کو اپنی کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے 36 نئے وزراء کو شامل کیا تھا ۔ شیوسینا نے کہا کہ کابینہ میں توسیع یقینی طور پر تاخیر کا شکار ہوئی تھی تاہم توسیع ہوگئی ہے ۔ جو لوگ کابینہ میں شامل نہیں ہوسکے ہیں ان کی جانب سے قدرے ناراضگی کی چنگاری ضرور ہے لیکن امکانی وزراء کی فہرست بہت زیادہ طویل تھی ۔ شیوسینا نے کہا کہ اس طرح کی ناراضگی پر بی جے پی ہوسکتا ہے کہ خوشیاں منا رہی ہو لیکن سابقہ دیویندر فڈنویس حکومت بھی اس طرح کی ناراضگیوں سے بچی ہوئی نہیں تھی ۔ شیوسینا نے کہا کہ ایک مستحکم اور تجربہ کار کابینہ نے جگہ حاصل کرلی ہے اوراسے کام کرنے کا موقع دیا جانا چاہئے ۔ شیوسینا رکن اسمبلی بھاسکر جادھو کی جانب سے کابینہ میں عدم شمولیت پر صدمہ کا اظہار کئے جانے کے تعلق سے شیوسینا نے کہا کہ ہر ایک سے کابینی قلمدان کا وعدہ نہیں کیا گیا تھا ۔ بھاسکر جادھو این سی پی سے علیحدگی اختیار کرکے انتخابات سے قبل شیوسینا میں شمولیت اختیار کی تھی ۔ پارٹی نے کہا کہ بھاسکر جادھو کا دعوی ہے کہ ٹھاکرے نے ان سے کابینی وزیر بنانے کا وعدہ کیا تھا لیکن پارٹی کی اطلاعات کے مطابق ایسا کوئی وعدہ نہیں کیا گیا تھا ۔ ہوسکتا ہے کہ ٹھاکرے نے ان سے انتخابات سے قبل کہا تھا کہ وہ شیوسینا میں شامل ہوجائیں اور حکومت کا حصہ بنیں۔ شیوسینا نے انتخابات کے بعد بی جے پی سے ترک تعلق کرتے ہوئے کانگریس اور این سی پی سے اتحاد کرتے ہوئے ریاست میں مخلوط حکومت تشکیل دی ہے ۔ چیف منسٹر کے عہدہ کے تعلق سے سینا ۔ بی جے پی میں اختلافات پیدا ہوئے تھے ۔ قلمدانوں کے تعلق سے اختلافات کے تعلق سے کہا کہ سابق چیف منسٹر اشوک چاوان کو کابینہ میں شامل کیا گیا ہے اور انہیںریوینیو جیسی وزارت کی ہی ضرورت ہے ۔