اہم قومی مسائل پر مودی حکومت کا پارلیمنٹ سے فرار

   

Ferty9 Clinic

قومی سطح پر اپوزیشن اتحاد یقینی، سی پی آئی قومی جنرل سکریٹری ڈی راجہ کی پریس کانفرنس
حیدرآباد۔18 ۔اگست (سیاست نیوز) سی پی آئی کے قومی جنرل سکریٹری کامریڈ وی راجہ نے مرکزی حکومت کو تنقید کا نشانہ بنایا اور کہا کہ پارلیمنٹ میں اہم مسائل پر مباحث کا اپوزیشن کو موقع نہیں دیا گیا ۔ حیدرآباد میں میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ڈی راجہ نے کہا کہ مخالف کسان قوانین ، پیگاسس جاسوسی معاملہ ، قیمتوں میں اضافہ اور جہد کاروں پر فرضی مقدمات جیسے امور پر مباحث سے فرار کا راستہ اختیار کیا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ اپوزیشن کے بارہا مطالبہ کے باوجود شور و غل کے دوران سرکاری بلز مباحث کے بغیر منظور کرلئے گئے ۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ جس طرح برطانوی دور حکومت میں مجاہدین آزادی کے خلاف غداری کے مقدمات درج کئے گئے، اسی طرح یو اے پی اے قانون کے تحت احتیاطی طور پر حراست میں رکھنے کا رجحان عام ہوچکا ہے ۔ کسانوں کے مسئلہ پر مودی حکومت کو مسائل کی یکسوئی سے کوئی دلچسپی نہیں ۔ کسان کئی مہینوں سے سڑکوں پر ہیں لیکن حکومت بات چیت کیلئے تیار نہیں ہے ۔ زرعی شعبہ کو مکمل طور پر کارپوریٹ شعبہ کے حوالے کردیا گیا ۔ ڈی راجہ نے قومی سطح پر سیکولر اور جمہوری طاقتوں کے درمیان اتحاد کا یقین ظاہر کیا اور کہا کہ یہ اتحاد آئندہ انتخابات میں نریندر مودی حکومت کو شکست دے گا۔ پارٹی کے قومی سکریٹری ڈاکٹر کے نارائنا نے مودی حکومت کو ڈکٹیٹرشپ سے تعبیر کیا ۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ 7 برسوں میں مودی حکومت عوام کے مفادات کے خلاف کام کر رہی ہے۔ ریاستی سکریٹری چاڈا وینکٹ ریڈی نے دلت بندھو اسکیم پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ اسکیم کیلئے بجٹ کا نصف حصہ درکار ہوگا اور حکومت یہ رقم کہاں سے مہیا کرے گی ۔ سابق رکن راجیہ سبھا سید عزیز پاشاہ نے کہا کہ یو پی اے دورہ حکومت میں بی جے پی نے ایوان کی کارروائی کو شور و غل کی نذر کردیا تھا ۔ انہوں نے مباحث کے بغیر بلز کی منظوری پر تنقید کی ۔ جمہوریت پر عمل آوری میں ہندوستان 2014 ء میں 27 ویں رینک پر تھا جو مودی حکومت میں گھٹ کر 53 رینک پر پہنچ چکا ہے ۔ R