2013 میں مودی کے سیاسی مشیر روی منتھا نے 2017 میں جیفری سے ملاقات کی تھی
حیدرآباد۔17فروری(سیاست نیوز) دنیا بھر کی سیاست میں تہلکہ مچانے والی ایپسٹین فائلس میں اب شہر ’’حیدرآباد‘‘ سے تعلق رکھنے والوں کی دلچسپیاں بھی بڑھنے لگی ہیں کیونکہ ان فائلس میں اب حیدرآباد کا بھی تذکرہ ہونے لگا ہے اور شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تاجرکے تذکرہ کے بعد اب ایپسٹین فائلس کا باریکی سے جائزہ لیا جانے لگا ہے۔ایپسٹین فائلس کے ای۔میل کے انکشافات میں شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے ایک ایسے تاجر کا تذکرہ سامنے آیا ہے جس نے سال 2013 میں نریندر مودی کے سیاسی مشیر اور منصوبہ ساز کے طور پر خدمات انجام دینے کے علاوہ نریندرمودی کے گجراتی شاعری کا انگریزی میں ترجمہ کیا ہے۔ روی منتھا نامی تاجر جس کا تعلق حیدرآباد سے ہے کے متعلق ایپسٹین فائل کے انکشافات میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ 2017میں روی منتھا نے جنسی ہراسانی کے علاوہ سنگین جرائم کے مجرم ’’جیفری ایپسٹین ‘‘ سے ملاقات بھی کی ہے۔ایپسٹین فائلس میں تاحال جن ہندوستانیوں کے نام منظر عام پر آئے ہیں ان میں مرکزی وزیر ہردیپ سنگھ پوری‘ ہندوستانی تاجر انیل امبانی کے علاوہ سابق مرکزی وزیر ڈاکٹر ہرش وردھن سابق وزیر صحت کے نام شامل تھے علاوہ ازیں متاثرین میں اب ایک ہندستانی لڑکی کا بھی تذکرہ کیا جانے لگا ہے لیکن شہر حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تاجر ’روی کانت منتھا‘ کے نام کے انکشاف کے بعد اب حیدرآباد سے تعلق رکھنے والے تاجرین کے نامو ںکو بھی ایپسٹین فائلس میں تلاش کیا جانے لگا ہے۔ کیونکہ ’جیفری ایپسٹین ‘ کے حیدرآباد میںوزیر اعظم نریندر مودی سے تعلق رکھنے والے تاجر سے تعلقات کے بعد کئی سرکردہ تاجرین کے ناموں کی شہریوں کی جانب سے تلاش شروع کردی گئی ہے اور وہ ایپسٹین فائلس کے مواد میں ان ناموں کو تلاش کرنے لگے ہیں جن کے متعلق انہیں شبہ ہے کہ وہ وزیر اعظم نریندر مودی سے قربت رکھتے ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کی مدد کرتے ہوئے اپنی تجارتی سرگرمیوں کو فروغ دے رہے ہیں۔روی منتھا کی جیفری ایپسٹین سے ملاقات کا اب تک کے دستاویزات میں انکشاف ہوا ہے لیکن تاحال ’روی‘ کے کسی بھی طرح کی مجرمانہ سرگرمیوں یا عیاشیوں میں ملوث ہونے کی کوئی توثیق نہیں ہوئی ہے حالانکہ 2017 میں جیفری سے روی کی ملاقات کی توثیق ہوئی ہے لیکن یہ بات واضح نہیں ہے کہ یہ ملاقات’جرائم‘ کے جزیرہ پر ہوئی یا کسی اور مقام پر ہوئی تھی۔3