حیدرآباد ۔ 17 ۔ اگست : ( سیاست نیوز ) : ناگر کرنول کے ایجنسی علاقوں میں رہنے والے لوگ موسمی اور وائرل امراض سے متاثر ہورہے ہیں جس کی وجہ مناسب تغذیہ بخش غذا کی کمی ہے وہ تغذیہ بخش غذا نہ ملنے اور آلودہ پانی پینے سے بھی ان امراض کے شکار ہورہے ہیں ۔ ایجنسی ولیجس یرلا پنٹیا ، سرلا پلی ، میڈی ملکالہ ، بورارم کے چند قبائیلیوں سائیلوں ، سبیا ، پرواتالو ، ملسیا ، سائیدلو اور نرنجن کا کہنا ہے کہ ایجنسی علاقوں میں یہ ایک سالانہ مسئلہ بن گیا ہے ۔ انہوں نے دیکھا کہ سوکھے پتوں کے ڈھیر جب بارش کے پانی سے بھیگ گئے تو اس میں ایک قسم کا فنگس بنا اور اس میں بعض کیڑے پیدا ہوگئے ، جب یہ کیڑے جلد پر پہنچتے ہیں تو اس سے جلد پر لال دھبے ہورہے ہیں ۔ مچھروں کے کاٹنے کی وجہ کئی لوگ ایک خاندان میں پانچ میں کم از کم چار لوگ ملیریا ، ٹائفائیڈ ، چکون گنیا ، ڈینگو اور دیگر امراض سے متاثر ہورہے ہیں ۔ ان کی علامات میں سردی ہونا ، بخار شامل ہے ۔ ایجنسی علاقوں میں ان علامات کے باعث کئی لوگ بیڈ پر ہوگئے ہیں ۔ میڈیکل اینڈ ہیلت کے عہدیدار بہت کم ایجنسی علاقوں میں آتے ہیں اور کچھ گولیاں یا انجکشن دے کر چلے جاتے ہیں چونکہ یہ دوائیں موثر نہیں ہوتی ہیں اس لیے قبائیلی لوگ دور ٹاونس کے دواخانوں کو جاکر علاج کرواتے ہیں ۔ بعض وقت انہیں اپنا علاج کروانے کیلئے قرض حاصل کرنا پڑتا ہے ۔ ان علاقوں میں مناسب سڑکیں نہ ہونے کی وجہ قبائیلیوں کو قریبی ٹاونس جانے کیلئے کئی کلو میٹرس پیدل چل کر جانا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مناسب روڈ ٹرانسپورٹ سہولتوں کے نہ ہونے کی وجہ مریضوں کو دواخانہ پہنچنے کیلئے کھیتوں سے گذرتے ہوئے طویل فاصلہ پیدل چل کر طئے کرنا پڑتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ جنگلاتی علاقہ میں جھونپڑوں میں کیا ہوتا ہے کوئی نہیں جانتا ہے جو وسیع علاقوں میں ادھر اُدھر ہیں ۔ انہوں نے اس بات تشویش کا اظہار کیا کہ ایجنسی ولیجس میں بچوں اور عمر رسیدہ لوگوں کا خیال رکھنے والا کوئی نہیں ہے کیوں کہ بڑے گورنمنٹ ہاسپٹلس میں زیر علاج ہیں اور دور ہیں ۔ فرح آباد ، وٹاورلہ پلی کے شیوئیا ، ناگولا اور سرنک نے کہا کہ ان کے رشتہ داروں کی صحت کی حالت میں کوئی بہتری نہیں آئی ۔ حالانکہ قریبی ٹاون میں سات ہزار روپئے خرچ کرتے ہوئے گورنمنٹ ہاسپٹلس میں ان کا علاج کروایا گیا ۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ شدید بارش میں ان کی جھونپڑیاں بہہ گئیں اور وہ شیلٹر سے محروم ہوگئے ۔ اس دوران وائرل بخار سے وہ متاثر ہوگئے انہوں نے کہا کہ ان کی خراب حالت کے باوجود کوئی ان کی بہتری کا خیال نہیں کررہا ہے ۔۔
