مظلومین کی مدد روزنامہ سیاست کی پہچان ، 45برسوں سے ایران پر پابندیاں‘ ابنائے ہرمز کی بندش پر ایک ماہ میں دنیا پریشان ، ایرانی قوام کیلئے عطیہ کی وصولی
حیدرآباد : 30 مارچ ( سیاست نیوز) ایران اور اس کی عوام کے پاس امام عالی مقام حضرت امام حسینؓ اور تمام شہداء کربلا کا جذبہ ہے اور ایران اس مقدس و پاکیزہ جذبہ کے تحت ظالموں کا ٹوٹ کا مقابلہ کرے گا ۔ ایران کسی کے آگے جھکا ہے نہ جھکے گا اور دنیا گزشتہ نصف صدی سے ایران کی غیرت اور اس کی خوداری اور سب سے بڑھ کر جذبہ ایمانی کا مشاہدہ کررہی ہے ۔ اسرائیل اور امریکہ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ہم نے ایران کی صف اول کی قیادت کا صفایا کردیا ہے تو وہ ان کی خام خیال اور خوش فہمی کے سواء کچھ نہیں ۔ اسلام اور ایران کے دشمنوں کو یہ اچھی طرح معلوم ہوجانا چاہیئے کہ ایرانی قیادت کی شہادت نے ایرانیوں کو ایک نئی طاقت بخشی ہے ، دشمنوں کو یہ بھی معلوم ہونا چاہیئے کہ شہادت ہماری آرزو ، ہماری تمنا ، ہماری دعا ہوتی ہے ۔ ان خیالات کا اظہار ایرانی قونصل جنرل متعینہ حیدرآباد عزت مآب حمید احمدیہ نے ایڈیٹر ’سیاست‘ جناب زاہد علی خان کی زیر قیادت ایک وفد کا دفتر قونصل خانہ بنجارہ ہلز میں خیرمقدم کرتے ہوئے کیا ، جس میں سکریٹری فیض عام ٹرسٹ جناب افتخار حسین ، ڈاکٹر مخدوم محی الدین ، ڈائرکٹر بی بی آمنہ سوپر اسپیشالیٹی ہاسپٹل چندرائن گٹہ اور ممتاز گائناکالوجسٹ ڈاکٹر رویا روضاٹی شامل تھے ۔ اس وفد نے اسرائیلی و امریکی درندگی کا شکار مظلومین ایران کیلئے ایک خصوصی عطیہ قونصل جنرل عزت مآب حمید احمدیہ کے حوالے کیا ۔ وفد سے بات چیت میں عزت مآب حمید احمدیہ نے پُرزور انداز میں کہا کہ ایران عرصہ دراز سے ایک مظلوم ملک رہا ہے ، تقریباً نصف صدی سے دشمنوں نے اس پر بار بار پابندیاں عائد کیں ، اس پر بدمعاشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے جنگیں مسلط کی گئیں ۔ اس کے باوجود اسلام ، ایران اور عالمی امن کے دشمنوں کو ناکامی اور مایوسی کا سامنا کرنا پڑا اور ایران حق پر جما رہا ، ہم ایمانداری اور دیانتداری سے کام کرتے ہیں ۔ حالیہ عرصہ کے دوران دنیا یہ سمجھتی رہی کہ ایران کی ٹاپ لیڈر شپ کو ختم کردیا جائے تو حکومت بھی گرجائے گی لیکن دشمن اپنے ناپاک عزائم میں ناکام رہا ، جہاں تک جنگ کا سوال ہے ایران نے کبھی جنگ نہیںچاہی ، ہمیشہ امن کی بات کی ۔ عزت مآب قونصل جنرل نے مزید کہا کہ آج اسرائیل اور امریکہ کی جانب سے ایران پر مسلط کردہ جنگ کو ایک ماہ ہوچکا ہے ۔ آبنائے ہرمز کی بندش پر سارا عالم چیخ رہا ہے اس کے برعکس ایران زائد از 45 برسوں س پابندیاں جھیل رہا ہے ۔ اس سے اندازہ لگائے کہ ہم کیسے کیسے برے دور سے گزرے ہیں ۔ ایرانی قوم نے ہمیشہ صبر وتحمل کا غیر معمولی مظاہرہ کیا ہے ، برا کرنے والوں کا برا ہوگا ۔ انہوں نے ایران اور ایرانی عوام کے تئیں ہندوستانیوں بالخصوص حیدرآبادیوں کے جذبہ محبت و ہمدردی کو سلام کیا اور انکشاف کیا کہ ایک غیر مسلم خاتون نے اپنا آٹو فروخت کر کے متاثرین ایران کیلئے عطیہ پیش کیا ۔ حمید احمدیہ کے مطابق جس مقدار میں مدد کی جاتی ہے مقدار کو نہیں بلکہ جذبہ کو دیکھا جاتا ہے ۔ ایران اور ہندوستان کے صدیوں پرانے تعلقات ہیں اور اللہ سے دعا ہیکہ دونوں ملکوں کے ان تعلقات کو قائم رکھے ۔ واضح رہے کہ ڈاکٹر مخدوم محی الدین نے فارسی میں عزت مآب حمید احمدیہ کو وفد کے جذبات و احساسات سے واقف کروایا ۔ قونصل جنرل نے روزنامہ ’سیاست ‘ و ایڈیٹر جناب زاہد علی خاں کا بطور خاص شکریہ ادا کیا اور کہا کہ سیاست نے ہمیشہ حق کا ساتھ دیا ، کمزوروں و مظلومین کے ساتھ کھڑا رہا اور یہی روزنامہ سیاست کی پہچان ہے ۔ جناب زاہد علی خاں کے جذبہ انسانیت کو سلام کیا اور کہا کہ آپ خرابی صحت کے باوجود مظلومین ایران سے اظہار یگانگت کرنے ان کی مدد کرنے تشریف لائے ، ہمارے دل خوش ہوئے ، آْپ کی جذبہ ملی کو ہمارا سلام، آخر میں ڈاکٹر رویا روضاتی نے دعا کی ۔