ایران:برطانوی امدادی کارکن نازنین کو ایک سال قید

   

تہران: ایران میں ایک انقلابی عدالت نے برطانوی ایرانی امدادی کارکن نازنین زغری ریٹکلف کوایک سال قید کی سزا سنائی ہے۔وہ اس سے پہلے پانچ سال کی قید بھگت چکی ہیں۔عدالت نے اپنے فیصلہ میں نازنین زغری پر قید کی مدت مکمل ہونے کے بعد ایک سال تک ملک سے باہر جانے پر پابندی عائد کردی ہے۔ ایران کی خبررساں ایجنسی امتداد نے گزشتہ روز زغری ریٹکلف کی وکیل حج کرمانی کے حوالے سے کہا ہے کہ ان کی مؤکلہ کو نظام کے خلاف پروپیگنڈے کے الزام میں ایک سال قید کی سزا سنائی گئی ہے اور یہ مدت پوری ہونے کے بعد ان کے ملک چھوڑنے پر پابندی ہوگی۔ تاہم وہ اپنی اس سزا کے خلاف اپیل دائرکرسکتی ہیں۔واضح رہے کہ ایرانی حکام نے مارچ میں نازنین کو ان کی سابق پانچ سالہ قید کی مدت پوری ہونے کے بعد جیل سے رہا کردیا تھا لیکن پھر انھیں دوبارہ ایرانی نظام کے خلاف پروپیگنڈہ کے الزام میں گرفتار کر لیا تھا اور ان کے خلاف انقلابی عدالت میں نیا مقدمہ چلانے کا اعلان کیا تھا۔ نازنین تھامس رائیٹرز فاؤنڈیشن کی سابق پراجیکٹ منیجر تھیں۔ انھیں ایرانی حکام نے اپریل 2016 میں تہران سے واپسی پر بین الاقوامی ہوائی اڈے سے گرفتار کیا تھا۔اس وقت وہ اپنے خاندان سے ملاقات کے بعد برطانیہ واپس جارہی تھیں۔بعد میں ایک ایرانی عدالت نے انھیں حکومتی نظام کا تختہ الٹنے کی سازش کے الزام میں قصور وار قرار دے کر قید کی سزا سنائی تھی جبکہ انھوں نے ان الزامات کی تردید کی تھی۔