نیویارک: انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے 2021ء کی سالانہ رپورٹ میں ایران میں حکومتی سرپرستی میں عوام پرڈھائے جانے والے مظالم کی شدید مذمت کی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہیکہ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے ایرانی اداروں کو عوام پر مظالم ڈھانے کی کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ ایرانی انٹلیجنس اور سیکیورٹی ادارے عدلیہ کے ساتھ مل کر عوام کے حقوق کا استحصال کررہے ہیں۔ اپوزیشن کو کچلنے کیلئے ان کے خلاف طاقت کا بے دریغ استعمال کیا جا رہا ہے۔ حتیٰ کہ عوام کو حکومتی مظالم کیخلاف پرامن احتجاج کا حق بھی حاصل نہیں ہے۔ایران میں سرکاری سطح پر مظاہرین کیخلاف مہلک طاقت کا استعمال، انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں، قیدیوں کو اذیتیں دینے، غیرقانونی حراست اور جبری گمشدگی جیسے واقعات عام ہیں۔ ایرانی صدر حسن روحانی اور ان کی انتظامیہ انسانی حقوق کی خطرناک پامالیوں کی روک تھام میں ناکام ہے۔ ایرانی سیکیورٹی اداروں کو براہ راست آیت اللہ علی خامنہ ای کی طرف سے ہدایات ملتی ہیں اور خامنہ انے سیکیورٹی اداروں کو عوام پر مظالم ڈھانے کی کلین چٹ دے رکھی ہے۔رپورٹ میں نومبر 2019ء کے دوران ایران میں مظاہرین کے خلاف ظالمانہ کریک ڈاون کا حوالہ دیا گیا اورکہا گیا ہیکہ نومبر 2019ء کے دوران پرامن مظاہرین نے جب سڑکیں بلاک کیں تو ان کے خلاف طاقت کا اندھا دھند استعمال کیا گیا۔ہیومن رائٹس واچ نے ایران میں شہری آزادیوں کو دبانے،آزادی اظہار رائے کو کچلنے اور انٹرنیٹ کی بندش کی بھی مذمت کی ہے۔