ہنگامی اجلاس میں 100سے زائد ممالک کی جانب سے حمایت
نیویارک۔26؍مارچ ( ایجنسیز )اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کونسل میں ایران کے میزائل اور ڈرون حملوں کے خلاف ایک اہم قرارداد منظور کر لی گئی ہے جس کی 100 سے زائد ممالک نے حمایت کی۔یہ قرارداد خلیجی ممالک اور اردن کی درخواست پر بلائے گئے ہنگامی اجلاس میں منظور کی گئی۔ قرارداد میں ایران کے حملوں کو عالمی قوانین کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی گئی ہے۔اس موقع پر امارات کی وزارت خارجہ نے سخت ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران کی جانب سے ہوائی اڈوں، بندرگاہوں اور توانائی کے مراکز کو نشانہ بنانا ناقابل قبول ہے خاص طور پر ایسے ممالک میں جو اس تنازعہ کا حصہ نہیں ہیں۔قرارداد میں آبنائے ہرمز اور باب المندب میں جہازرانی میں مداخلت کو عالمی امن کیلئے سنگین خطرہ قرار دیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ موجودہ کشیدگی عالمی تجارت، توانائی کے تحفظ اور سپلائی چین کو متاثر کر رہی ہے۔علاوہ ازیں قرارداد میں متاثرہ ممالک کی خودمختاری، علاقائی سالمیت اور آزادی کی حمایت کا اعادہ کیا گیا ہے۔ ایران سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ وہ فوری طور پر حملے بند کرے، اشتعال انگیزی سے گریز کرے اور متاثرہ فریقین کو مکمل معاوضہ ادا کرے۔سیاسی مبصرین کے مطابق اتنی بڑی تعداد میں ممالک کی جانب سے اس قرارداد کی حمایت ایران پر بڑھتے ہوئے بین الاقوامی سفارتی دباؤ کی عکاسی کرتی ہے۔