ایرانی خاتون نے بھائی کی قبر پر احتجاجاً بال کٹوا دئیے

   

تہران : ایران میں نامناسب حجاب پہننے پر کرد لڑکی مہسا امینی کی پولیس حراست میں موت کے بعد احتجاجی مظاہرے زور پکڑ چکے ہیں۔ ایرانی خواتین نے نیا انداز اپناتے ہوئے کیمروں کے سامنے اپنے بال کٹوا نے شروع کردئیے ہیں۔ ایسی ہی ایک ایرانی خاتون نے اپنے احتجاج کو مزید پرزور بناتے ہوئے بال کٹوانے کیلئے اپنے اس بھائی کی قبر کا انتخاب کیا جسے مظاہروں کے دوران قتل کردیا گیا تھا۔ بال کٹوانے کی یہ ویڈیو وائرل ہوگئی ہے۔ ایرانی حکام کیخلاف احتجاج کی پاداش میں جواد حیدری کو مار دیا گیا تھا۔ اب اس کی بہن نے اپنا احتجاج اس طرح ریکارڈ کرایا کہ اپنے اسی مقتول بھائی کی قبر پر اپنے بال کٹوائے اور اس کی ویڈیو بھی بنوائی اور انٹرنیٹ پر وائرل کردی۔ دریں اثنا ایران میں مہسا امینی کی موت کے بعد شرو ع ہونے والے مظاہرے پیر کو بھی زور و شور سے جاری رہے۔ ایرانی حکام نے ملک کے شمال میں 450 نئے افراد کو گرفتار کرلیا۔