ایرانی مظاہرین ، شہری مراکز بند کرنے کی تیاری کریں : ولیعہد رضا پہلوی

   

Ferty9 Clinic

تہران۔ 11 جنوری (ایجنسیز) ایران کے 1979 میں ایرانی انقلاب کے ذریعے برطرف کیے گئے شہنشاہ کے امریکہ میں مقیم بیٹے رضا پہلوی نے ایران میں جاری مظاہروں اور فسادات کو سراہتے ہوئے کہا ہے کہ ایرانی شہریوں کو چاہیے کہ وہ اپنے مظاہروں کے لیے ایسی تیاری کریں کہ شہری مراکز کو بند کر سکیں۔ رضا پہلوی نے کہا اب ہمارا مقصد محض گلیوں کو بند کرنا نہیں ہے۔ بلکہ ہمارا ہدف شہری مراکز کو بند کرنا اور ان پر قبضہ کرنا ہے۔ رضا پہلوی کا یہ بیان ایک ویڈیو میسج کی صورت میں سوشل میڈیا پر سامنے آیا ہے۔ رضا پہلوی کا والد 1979 میں برطرف ہوا جبکہ 1980 میں اس کا انتقال ہو گیا تھا۔ اب اس بیان میں شہنشاہ کے بیٹے نے بھی اعلان کیا ہے کہ وہ وطن واپس آنے کے لیے تیاری کر رہا ہے اور وہ وقت دور نہیں جب وہ ایران جا سکے گا۔مظاہرین اور مغربی ملکوں سے تعلق رکھنے والی این جی اوز نے ایران میں انٹرنیٹ کی بندش پر تشویش ظاہر کی ہے اور کہا ہے کہ انٹرنیٹ کی بندش کے پردے میں جبر کو جاری رکھا گیا ہے۔ ناروے میں قائم ایک انسانی حقوق گروپ نے اطلاع دی ہے کہ ایران میں اب تک 51 لوگوں کو ہلاک کیا جا چکا ہے جبکہ کریک ڈاؤن جاری ہے۔ایران کی امن کا نوبل انعام جیتنے والی خاتون شیریں عبادی نے جمعہ کے روز خبردار کیا تھا کہ ایرانی سیکیورٹی فورسز قتل عام کی تیاری کر رہے ہیں۔ اس لیے مواصلاتی بلیک آؤٹ کیا گیا ہے اور انٹرنیٹ کی سروس مکمل بند کی گئی ہے۔ایرانی حکام کا کہنا ہے کہ سیکیورٹی ادارے کے کئی اہلکاروں کو مظاہرین نے قتل کیا ہے۔ علی خامنہ ای سپریم لیڈر ایران نے بھی ان مظاہرین کو غنڈہ گردی کے مرتکب قرار دیا اور کہا ان کے سامنے اسلامی جمہوریہ ایران نہیں جھکے گا۔سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے امریکہ پر الزام لگایا کہ وہ ایران میں بدامنی پھیلا رہا ہے۔ اسی طرح کے بیانات کئی اور ایرانی حکام نے بھی دیے ہیں۔امریکی صدر ٹرمپ نے کہا ایران ایک بڑا مسئلہ ہے اور وہ پہلے ہی انتباہ کر چکے ہیں کہ مظاہرین کے خلاف تشدد جاری رہا تو امریکہ براہ راست مداخلت کر سکتا ہے۔