ایرانی میزائل پروگرام ،امریکہ کا مزید پابندیوں کا اشارہ

   

واشنگٹن : امریکہ ایران کے تیزی سے بڑھتے ہوئے ڈرون اور میزائل پروگرام کے خلاف مزید پابندیاں لگانے کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔عرب نیوز نے امریکی اخبار وال سٹریٹ جرنل کا حوالہ دیتے ہوئے کہا ہے کہ بائیڈن انتظامیہ کو خدشہ ہے کہ ایرانی ڈرون اور میزائل پروگرام جس کا انتظام پاسدارانِ انقلاب کے پاس ہے، وہ امریکہ کے اتحادی ممالک اور مشرق وسطیٰ کے استحکام کے لیے ایران کے نیوکلیئراور بیلسٹک میزائل پروگرام کی نسبت زیادہ خطرناک ہے۔خیال رہے کہ ایران کے میزائل پروگرام پر پہلے سے ہی کچھ پابندیاں عائد ہیں لیکن نئی ممکنہ پابندیاں زیادہ وسیع ہوں گی جو کہ ان میزائلوں کی تیاری کے لیے پرزوں کے حصول کو ہدف بنائیں گی۔وال اسٹریٹ جرنل کو بائیڈن انتظامیہ کے ایک سینئرعہدے دار نے بتایا کہ ’یہ ہماری جامع پالیسی کا حصہ ہے اس لیے ہم ایرانی خطرے کے ساتھ ہر پہلو سے نمٹ رہے ہیں۔‘ایران کے خلاف امریکہ کی جانب سے نئی پابندیاں ایک ایسے وقت میں لگائی جا رہی ہیں جب عراق میں امریکی افواج اور اتحادیوں اور مشرق وسطیٰ کے دیگر علاقوں میں ایرانی پاسداران انقلاب اور ان کی حامی پراکسیز کی جانب سے میزائل حملوں کے خاتمے کی ضرورت محسوس کر رہے ہیں۔امریکی عہدے دار نے وال سٹریٹ جرنل کو بتایا کہ ’ایران کے ڈرون حملے خطے میں ہمارے اتحادیوں کے لیے بڑا خطرہ بنتے جا رہے ہیں۔‘اس سے قبل بائیڈن انتظامیہ نے ایران کے نیوکلیئرپروگرام پر عائد پابندیوں کو نرم کرنے کی پیشکش کی تھی بشرطیکہ ایران 2015 میں ہونے والے معائدے کی پاسداری کرے۔