ایرانی ٹیم میکسیکو روانہ، امریکہ کا ویزا تنازعہ برقرار

   

ٹیجوانا، میکسیکو،7 جون (یواین آئی) فیفا ورلڈکپ 2026ء کے باقاعدہ آغاز سے چند دن قبل، تہران اور واشنگٹن کے درمیان ایک شدید سفارتی تنازعہ کھڑا ہوگیا ہے ۔ یہ تنازعہ اس وقت آیا جب امریکہ نے ایرانی فٹ بال ٹیم کے بعض معاون عملہ کو ویزے جاری کرنے سے انکارکردیا۔ اس کشیدگی کے سائے میں ایرانی اسکواڈ ترکیہ میں اپنی ٹریننگ مکمل کرنے کے بعد میکسیکو کے سرحدی شہر ٹیجواناکے لیے روانہ ہوگیا ہے ، جہاں ٹورنمنٹ کے دوران ٹیم کا ہیڈکوارٹر قائم رہے گا۔ یاد رہے کہ ورلڈکپ 2026ء کی مشترکہ میزبانی امریکہ، میکسیکو اورکینیڈا کر رہے ہیں، اور تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے کہ کوئی میزبان ملک (امریکہ) ایک ایسی ٹیم (ایران) کی میزبانی کررہا ہے جس کے ساتھ وہ جنگی صورتحال میں رہا ہے ۔ ترکیہ میں امریکی سفیر نے تصدیق کی کہ کھلاڑیوں کو ویزے جاری کردیے گئے ہیں، تاہم ایرانی سفارت خانے کے مطابق ٹیم کے15 انتظامی اور مینجمنٹ اسٹاف کو ویزے دینے سے انکارکردیاگیا ہے ۔ ایرانی فٹ بال فیڈریشن کے سربراہ مہدی تاج بھی مبینہ طور پر ان لوگوں میں شامل ہیں جنہیں ویزا نہیں ملا۔ ایک امریکی عہدیدار نے واضح کیا کہ مقابلہ کرنے کے لیے ضروری کھلاڑیوں اور لازمی اسٹاف کو ویزے دیے جا چکے ہی۔ اپریل میں امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے بھی اشارہ دیا تھا کہ مسئلہ کھلاڑیوں کا نہیں بلکہ ان کے ساتھ آنے والے کچھ ایسے افراد کا ہے جن کے تعلقات پاسدارانِ انقلاب سے ہو سکتے ہیں، جو کہ امریکہ کی بلیک لسٹ میں شامل ہے ۔ میکسیکو میں تعینات ایرانی سفیر نے دعویٰ کیا ہے کہ نئی شرائط کے تحت ایرانی ٹیم کو میچ والے دن ہی امریکہ میں داخل ہونے اور اسی دن واپس نکلنے کا حکم دیاگیا ہے ، جو کہ فیفا کے قوانین (میچ سے قبل پریس کانفرنس وغیرہ) کے برعکس ہے ۔ تاہم، ٹیم کے ترجمان نے اس سے قبل کہا تھا کہ ٹیم کو ملٹی پل انٹری ویزے ملے ہیں اور وہ میچ سے ایک یا دو دن پہلے جائے گی۔ عراقی ٹیم کے ساتھ پیش آنے والا واقعہ بھی اس تناظر میں اہم ہے کہ امریکی کسٹمز اینڈ بارڈر پروٹیکشن کے مطابق شکاگو پہنچنے پر عراقی ٹیم کے دو ارکان کی اضافی اسکریننگ کی گئی، جس کے بعد ایک فوٹوگرافر کو نااہل قرار دے کر امریکہ میں داخلے سے روک دیا گیا۔ورلڈ کپ کے لئے امریکہ میں ویزا تنازعات کی وجہ سے کھلاڑیوں کی تیاری پر اثر ہوا۔