ایرانی پاسداران انقلاب کا عراق میںموسادہیڈ کوارٹر پر حملے کا دعویٰ

   

بغداد: ایرانی پاسداران انقلاب نے کہا ہیکہ اس نے عراقی کرد علاقہ میں قائم کیے گئے اسرائیل کے جاسوسی ہیڈ کوارٹر پر حملہ کیا ہے۔ اس علاقہ کو کردوں کا نیم خود مختار علاقہ کہا جاتا ہے۔ ایران کی ایلیٹ فورس نے اسی طرح کے داعش پر شام میں ایک حملے کی اطلاع دی ہے۔ ایرانی پاسدران انقلاب نے اپنے مقتول جنرل سلیمانی کے مزار کے قریب دو دھماکوں کے نتیجہ میں تقریباً ایک سو افراد کی ہلاکت کا بدلہ لینے کا اعلان کیا تھا۔ ان دھماکوں کی ذمہ داری داعش نے قبول کی تھی۔ میڈیا نے ان انتقامی حملوں کو پیر کو رات دیر سے رپورٹ کیا ہے۔ ایرانی شہر کرمان میں یہ دو دھماکے غزہ میں ایران کی اتحادی حماس کے خلاف جاری اسرائیلی جنگ کے دوران رواں ماہ کے شروع میں کیے گئے تھے، ایرانے کے حامی لبنان، شام ، عراق اور یمن میں ہر جگہ سے کارروائیاں کر رہے ہیں۔پاسداران انقلاب کے بیان میں کہا گیا ہے یہ حملہ صہیونی مظالم کے خلاف کیا گیا ہے، جو مقتول کمانڈروں کی ہلاکت کا باعث بنے۔ اس لیے موساد کے ایک بڑے جاسوسی مرکزکو بلیسٹک میزائلوں سے عراق میں تباہ کر دیا گیا ہے۔ اس بارے میں اسرائیلی حکومت کے حکام نے ابھی تک کوئی تبصرہ نہیں کیا ہے۔ اس لیے رائٹرز نے بھی اپنے آزادانہ ذرائع سے ایرانی دعوے کی تصدیق نہیں کی ہے۔ تاہم ایرانی پاسداران نے ابھی مزید بدلے کا کہا ہے۔