سید عطا حسنین ، لیفٹننٹ جنرل ( ریٹائرڈ )
امریکہ نے ونیزویلا کے منتخبہ صدر مادورو کے خلاف کارروائی کی اور اُنھیں اُن کی اہلیہ کے ساتھ اغواء کرکے امریکہ منتقل کردیا جہاں مادورور فوجداری مقدمہ کا سامنا کررہے ہیں۔ بہرحال کاراکس میں امریکی کامیابی کے فارمولے کو کسی اور ملک میں کامیابی کے ساتھ نہیں آزمایا جاسکتا حالانکہ امریکہ اور اُس کے صدر ڈونالڈ ٹرمپ یہ سمجھ رہے ہیں کہ وہ جس ملک پر چاہیں بناء کسی جواز کے حملہ کرسکتے ہیں اُن پر قبضہ کرسکتے ہیں ۔ ٹرمپ نے تو حال ہی میں ببانگ دہل یہ کہا ہے کہ عالمی قوانین کی اُن کے پاس کوئی اہمیت یا افادیت نہیں بلکہ امریکہ جو کہتا ہے کرتا ہے وہی قانون ہے اور اسے ساری دنیا کو ماننا ہوگا ۔
ٹرمپ نے اپنے حالیہ اقدامات اور فیصلوں سے یہ بھی ساری دنیا کو اشارہ دیا ہے کہ دنیا کو اس کے اشاروں پر چلنا ہوگا ورنہ ٹیرف کا سامنا کرنا ہوگا ۔ اگر دیکھا جائے تو ڈونالڈ ٹرمپ کی سوچ یہی ہے کہ وہ کاراکس ( ونیزویلا) پر قبضہ کے فارمولے کو کسی بھی ملک میں دہراسکتے ہیں ، آزماسکتے ہیں۔ بہرحال ونیزویلا میں امریکی فوجی کارروائی اس تبدیلی کی طرف اشارہ کرتی ہے کہ کس طرح غیرمتزلزل بین الاقوامی ماحول میں امریکی طاقت کا غیرمعمولی استعمال کیا جارہا ہے ۔ آپ کو بتادیں کہ امریکہ نے ونیزویلا میں جو کارروائی کی وہ بڑی احتیاط ، خصوصی حکمت عملی اور منصوبہ بندی کے ذریعہ کی ، ویسے بھی ونیزویلا اور امریکہ کے درمیان فوجی طاقت میں زمین و آسمان کا فرق پایا جاتا ہے ،اس کے باوجود ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ اسٹرٹیجک کامیابی کا اندازہ صرف واقعہ کے فوری طورپر برآمد نتائج سے نہیں لگایا جاسکتا جو چیز یکساں طورپر اہمیت رکھتی ہے وہ اس کی تخلیق کردہ مثال ہے اور یہ پیغام اتحادیوں ( حلیف ملکوں) حریفوں اور تناؤ کا شکار عالمی نظام کو بھیجا ہے ۔
واضح رہے کہ سردجنگ کے بعد کی تین دہائیوں میں دیکھا جائے تو امریکی طاقت کا استعمال اکثر زبردستی لیکن مختلف سیاسی حددو میں ہوتا رہا ہے جبکہ واشنگٹن نے مغربی ایشیاء افغانستان ۔ پاکستان اور افریقہ کے بعض حصوں میں فوجی مداخلت کرنے میں بہت ہی کم ہچکچاہٹ کا مظاہرہ کیا لیکن مغربی نصف کرہ میں حکومتوں کو نشانہ بنانے والی مداخلتوں اور اتحاد کی حساسیت کو بظاہر نظرانداز کرنے والے اقدامات کے بارے میں ایک واضح احتیاط برقرار رہی لیکن ونیزویلا میں امریکہ نے جو کارروائی کی اسے دیکھنے کے بعد تو ایسا محسوس ہوتا ہیکہ یہ پہلے سے طئے شدہ تھا اور اس کیلئے باضابطہ ایک جامع منصوبہ تیار کرلیا گیا تھا ۔ ایک اور اہم بات یہ ہے کہ فوجی کارروائی کی کامیابی اکثر اپنے ہی خطرات سے دوچار ہوتی ہے ، مثال کے طورپر جب قوت تیزی سے اور محدود نظر آنے والی قیمت پر نتائج فراہم کرتی ہے تو یہ اس یقین کو پروان چڑھاتی ہے کہ اس طرح کے اوزار کہیں اور بھی استعمال کئے جاسکتے ہیں۔
ونیزویلا نے کولمبیا ، کیوبا ، گرین لینڈ اور ایران کی طرف ساری توجہہ مبذول کراتے ہوئے واشنگٹن میں پہلے ہی قیاس آرائی پر مبنی گفتگو کو وسیع کردیا ہے ۔ ہر ایک الگ اسٹرٹیجک سیاق و سباق پیش کرتا ہے ، اس کے باوجود سب کو ایک ہی عینک سے دیکھا جاتا ہے ۔ ویسے بھی فیصلہ کن کارروائی ناگوار سیاسی حقائق کو نئی شکل دے سکتی ہے ۔ کسی کو یہ نہیں سمجھنا چاہئے کہ ٹکنیکی برتری کامیابی کی ضمانت فراہم کرتی ہے ۔ ہاں امریکہ کو ٹکنیکی برتری حاصل ہے ، اس کے پاس عصری ہتھیار ، غیرمعمولی و مربوط انٹلیجنس نٹ ورک ، فضائی تسلط اور ہر وہ صلاحیت موجود ہے جو ایک سوپر پاور کے پاس ہونی چاہئے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ کو ہمیشہ کمزور دشمن کا سامنا ہوگا ؟
آپ نے ونیزویلا میں بیشک اپنی ٹکنیکی برتری کا مظاہرہ کیا لیکن ایران کو اگر ونیزویلا کی طرح ایک کمزور ملک تصور کیاجاتا ہے تو وہ اس طرح کی سوچ و فکر رکھنے والوں کی خوش فہمی کے سوا کچھ نہیں ۔ ونیزویلا کے برعکس ایران ایک مضبوط ادارہ جاتی ریاست ہے جس میں تہذیبی شناخت کا مضبوط احساس پایا جاتا ہے۔ آج امریکہ اور اسرائیل ایران کی موجودہ حکومت کو زوال سے دوچار کرنے کی سازش اور منصوبوں پر عمل کررہے ہیں لیکن دونوں حلیف ملک اس بات کو پوری طرح نظرانداز کررہے ہیں کہ اُن کے منصوبہ ، اُن کی سازشیں صرف اور صرف علاقائی عدم استحکام کا باعث بنیں گے ۔ داخلی خلفشار اور علاقائی کشیدگی کو جنم دیں گے ۔
تہران کی کمزوریاں یا خامیاں حقیقی ہیں لیکن بیرونی طورپر مسلط کردہ حل کبھی کبھار ہی پائیدار نتائج کا باعث بنتا ہے ۔ تاریخ اقوام عالم کو احتیاط برتنے کا مسلسل مشورہ اور پیغام دیتی ہے۔ ایک مرتبہ جب کوئی تنازع آگے بڑھ جاتا ہے تو انسانی مرضی ، غیرمتناسب مواقفیت رسد اور سیاسی برداشت نتائج پر حاوی ہونے لگتے ہیں۔ عراق اورافغانستان اس بات کی واضح یاددہانی ہیں کہ میدان جنگ میں غلبہ یا برتری خودبخود پائیدار سیاسی نتائج میں تبدیل نہیں ہوتی چونکہ دنیا بھر میں کم لاگتی اور خاص طورپر بڑے بڑے و قیمتی اسلحہ کو غیرکارکرد کرنے والی ٹیکنالوجیز ، ڈرونس ، سائبر Tools اور سامان حربی بڑے پیمانے پر قابل رسائی ہوگئے ہیں یہاں تک کہ کمزور ممالک کبھی خام برتری کی خلیج کو پاٹنے کی کوشش کرسکتے ہیں اور ایران میں یہ تمام تر صلاحیتیں پائی جاتی ہیں۔
آپ کسی بھی طرح ونیزویلا کا موازنہ ایران سے نہیں کرسکتے ۔ موجودہ حالات میں امریکہ کیلئے یہ ضروری ہوتا ہے کہ وہ ایران کے بارے میں غلط اندازے قائم نہ کرے بلکہ حقیقت کو قبول کرلے ورنہ امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کے فیصلوں سے صرف اور صرف روس اور چین کا فائدہ ہوسکتا ہے ۔ دنیا میں بے چینی پھیل سکتی ہے اور دنیا بھر میں مہنگائی اپنے نقطہ عروج پر پہنچ سکتی ہے ۔
نوٹ : لیفٹننٹ جنرل سید عطا حسنین سرینگر 15 کارپس کے سابق کمانڈر ہیں۔