ایران امریکہ کشیدگی: خطے میں10جنگی بحری جہاز تعینات

   

سرپر بندوق رکھ کرمعاہدہ نہیں کیا جاسکتا ،کسی بھی حملے کا جواب ’’دردناک اور فیصلہ کن‘‘ ہوگا: ایران

واشنگٹن ،تہران : 29جنوری ( یو این آئی )ایران کے ساتھ بڑھتی ہوئی کشیدگی کے درمیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے مشرقِ وسطیٰ کی طرف ”ایک خظرناک بحری بیڑے” کی روانگی کے اشارے کے بعد خطے میں امریکی فوجی اثاثوں کی آمد میں تیزی آ گئی ہے۔ اس عسکری اجتماع میں الیکٹرانک انٹیلی جنس جمع کرنے والے خصوصی طیارے، متعدد تباہ کن بحری جہاز اور جدید دفاعی نظام شامل ہیں، جو مختلف جنگی منظرناموں میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔امریکی بحریہ کے ترجمان نے تصدیق کی کہ طیارہ بردار بحری جہاز ”ابراہم لنکن” اور آرلی برک کلاس کے تین تباہ کن جہاز اس وقت سینٹرل کمانڈ (سینٹکوم) کے علاقے میں موجود ہیں۔ یہ وہی تعداد ہے جو جنوری کے اوائل میں وینزویلا کے صدر نکولس مادورو کی گرفتاری کے آپریشن کے دوران کیریبیئن میں تعینات کی گئی تھی۔ اس تازہ دم کمک کے بعد مشرقِ وسطیٰ میں امریکی جنگی جہازوں کی کل تعداد 10 ہو گئی ہے۔ یہ تباہ کن جہاز میزائلوں اور ڈرونز کے خلاف مضبوط دفاع فراہم کرنے کے ساتھ ساتھ طویل فاصلے تک گولہ باری کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں۔فضائی اور جاسوسی محاذ پر، امریکہ کا اہم ترین الیکٹرانک جاسوسی طیارہ قطر کے العدید ایئر بیس پر پہنچ چکا ہے۔ یہ طیارہ دشمن کے مواصلاتی نظام اور الیکٹرونک لہروں کو پکڑ کر ان کے کمانڈ سینٹرز اور فضائی دفاعی مقامات کی درست نشان دہی کرتا ہے۔ اس کے علاوہ مزید چھ طیارے بھی مشرقِ وسطیٰ کی طرف روانہ ہو چکے ہیں، جو الیکٹرونک وارفیئر اور دشمن کے راڈاروں کو جام کرنے کے ماہر سمجھے جاتے ہیں۔ اردن کے ”موفق السلطی” بیس پر 12 اضافی F-15E لڑاکا طیارے تعینات کیے گئے ہیں، جبکہ تزویراتی مدد کے لیے ایندھن بھرنے والے طیارے اور سرچ اینڈ ریسکیو طیارے بھی پہنچ چکے ہیں۔صدر ٹرمپ نے ”ٹروتھ سوشل” پر اپنے بیان میں اس بیڑے کو وینزویلا کے مقابلے میں کہیں زیادہ ”بڑا، تیز رفتار اور طاقتور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ یہ اپنے مقصد کے حصول کے لیے تیار ہے۔ اطلاعات کے مطابق صدر ایران کے جوہری اور میزائل پروگرام پر مذاکرات کی ناکامی کے بعد تہران پر ایک بڑی فوجی ضرب لگانے پر غور کر رہے ہیں۔ ایران نے اس صورت حال پر انتہائی سخت ردِ عمل دیا ہے۔ ایرانی نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی فوجی کارروائی کا جواب ”دردناک اور فیصلہ کن” ہوگا، چاہے وہ حملہ محدود ہی کیوں نہ ہو۔ اقوام متحدہ میں ایرانی مشن نے سلامتی کونسل کو واضح کیا ہے کہ وہ اپنی خود مختاری کے دفاع کے لیے تمام قانونی اقدامات کریں گے اور کسی بھی غیر متوقع جارحیت کے نتائج کی تمام تر ذمہ داری امریکہ پر ہوگی۔ ایرانی پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف نے کہا ہے کہ ان کا ملک امریکہ کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے بشرطیکہ یہ بات چیت سنجیدہ اور حقیقی ہو۔انہوں نے واضح کیا کہ انہیں یقین نہیں کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اس نوعیت کے مذاکرات چاہتے ہیں بلکہ ان کا مقصد صرف دوسروں پر اپنی مرضی مسلط کرنا ہے۔محمد باقر قالیباف نے خبردار کرتے ہوئے کہا کہ ٹرمپ جنگ تو شروع کر سکتے ہیں مگر وہ نہ اس پر قابو پا سکیں گے اور نہ ہی اسے ختم کر سکیں گے۔

ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور:امریکی وزیر خارجہ
واشنگٹن: 29 جنوری (یو این آئی) امریکی وزیر خارجہ مارکو روبیو نے کہا ہے کہ ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہوگئی ہے ۔ امریکی سینیٹ کی خارجہ تعلقات کمیٹی میں بات کرتے ہوئے مارکو روبیو نے کہا کہ ایران کی معیشت زوال کا شکار ہے ، ایرانی حکومت ممکنہ طور پر پہلے سے زیادہ کمزور ہو گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مستقبل میں ایران میں ایک بار پھر احتجاجی مظاہرے شروع ہوں گے ، ایران کے حالیہ مظاہروں میں یقینی طور پر ہزاروں افراد ہلاک ہوئے تھے ۔ واضح رہے کہ حال ہی میں ایران میں مہنگائی کے خلاف احتجاج ہوا تھا جس میں کئی افراد ہلاک ہوگئے تھے جب کہ ملک میں انٹرنیٹ کی بندش کا بھی سامنا رہا۔