عمان کی میزبانی میں مثبت بات چیت ‘اگلے ہفتہ پھر تبادلہ خیال پر اتفاق
مسقط :عمان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا پہلا دور ختم ہوگیا اور بات چیت مثبت رہی۔ ایران نے کہا ہے کہ امریکہ کے ساتھ ہفتہ کے روزہونے والی پہلی باضابطہ جوہری بات چیت تعمیری رہی اور دونوں ممالک نے اگلے ہفتے دوبارہ مذاکرات کرنے پر اتفاق کیا ہے ۔ میڈیا کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھا کہ اس بات چیت کا مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ ایران کے پاس جوہری ہتھیار نہ ہوں۔ اس طرح عمان کی میزبانی میں ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ مذاکرات کا آغاز ہوگیا ہے۔ایرانی وزارت خارجہ نے تصدیق کی ہے کہ مسقط میں امریکہ کے ساتھ بالواسطہ مذاکرات میں ایرانی وفدکی قیادت وزیرخارجہ عباس عراقچی نے کی۔امریکی وفد کی قیادت امریکہ کے خصوصی ایلچی برائے مشرق وسطیٰ اسٹیو وٹکوف نے کی۔ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پر بیان میں کہا کہ ایران اور امریکہ کے درمیان بالواسطہ بات چیت کا پہلا دور ختم ہوگیا اور بات چیت تعمیری اور مثبت ماحول میں ہوئی۔ بات چیت ختم ہونے سے پہلے ایرانی اور امریکی وفود کے درمیان مختصر بات ہوئی۔مذاکرات سے قبل ایرانی میڈیا سے گفتگو میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ ایران سنجیدگی کے ساتھ بات چیت میں شریک ہو رہا ہے۔ ایران مساوی بنیاد پر منصفانہ اور باعزت معاہدے تک پہنچنے کاخواہاں ہے۔انہوں نے کہا کہ دوسرا فریق بھی اسی نیت سے آئے تو ابتدائی مفاہمت ممکن ہے جو مذاکرات کی راہ ہموار کریگی۔ امریکہ کی طرف سے مناسب رضامندی ظاہرہوئی تو مستقبل میں مزید بات چیت کاراستہ بھی ہموارہوسکتا ہے۔ یہ مذاکرات بالواسطہ ہیں اور ہمارے نقطہ نظر سے صرف جوہری مسئلے کے بارے میں ہیں۔عباس عراقچی کا کہنا تھاکہ مذاکرات برابری کی بنیاد پر ایرانی عوام کے مفاد کو یقینی بنانے والے معاہدے تک پہنچنے کیلئے ہیں۔ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے کہا ہے کہ حالیہ بات چیت طویل ہونے کی توقع نہیں ہے اور بات چیت کے پہلے دور میں ابتدائی انڈراسٹینڈنگ ہوسکتی ہے۔