ایران نے ٹرمپ سے معاہدہ سے دستبردار نہ ہونے ضمانت طلب کرلی، 1979 سے اسلامی انقلاب کے بعد ایران ۔امریکہ سفارتی تعلقات منقطع
روم : ایران اور امریکہ کے مابین تہران کے متنازعہ نیوکلیر پروگرام پر اہم مذاکرات آج روم میں دوبارہ شروع ہوگئے ۔ دونوں فریقین نے ایک ہفتہ قبل ہونے والی ابتدائی بات چیت کو ’’تعمیری‘‘ قرار دیا تھا۔ ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی ان مذاکرات کی سربراہی کر رہے ہیں۔ عمان کی ثالثی میں ہونے والے ان مذاکرات میں امریکی مندوب برائے مشرقِ وسطیٰ اسٹیو وٹکوف واشنگٹن حکومت کی نمائندگی کررہے ہیں۔ اطالوی دارالحکومت روم میں یہ ملاقات ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے، جب ایک ہفتہ قبل دونوں فریقین نے عمان کے دارالحکومت مسقط میں بالواسطہ مذاکرات کیے تھے۔ 2018 میں امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ کے پہلے دور صدارت کے دوران واشنگٹن کے عالمی نیوکلیر معاہدہ سے الگ ہونے کے بعد امریکہ اور ایران کے مابین یہ اولین اعلیٰ سطحی رابطہ ہے۔ مغربی ممالک بشمول امریکہ طویل عرصے سے ایران پر الزام لگا رہے ہیں کہ وہ نیوکلیر ہتھیار حاصل کرنے کی کوشش کر رہا ہے لیکن تہران اس کی تردید کرتا رہا ہے اور اصرار کرتا ہے کہ اس کا نیوکلیر پروگرام پرامن اور سول مقاصد کے لیے ہے۔ ایران میں 1979 کے اسلامی انقلاب کے بعد سے ایران اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعلقات منقطع ہیں۔ جنوری میں دوسری مدت کے لیے عہدہ سنبھالنے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایران کے خلاف زیادہ سے زیادہ دباؤ‘‘ کی پالیسی دوبارہ نافذ کی اور مارچ میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کو ایک خط لکھا، جس میں انہوں نے نیوکلیر مذاکرات کی بحالی کی تجویز دی۔ ساتھ ہی صدر ٹرمپ نے خبردار کیا کہ اگر سفارت کاری ناکام ہوئی تو فوجی کارروائی کی جا سکتی ہے۔ جمعرات کو ٹرمپ نے کہا کہ میں فوجی آپشن استعمال کرنے میں جلدبازی نہیں کر رہا۔ مجھے لگتا ہے کہ ایران بات کرنا چاہتا ہے۔‘‘ جبکہ اس بیان کے ایک دن بعد عباس عراقچی نے کہا کہ پہلے دور میں امریکہ کی طرف سے ایک حد تک سنجیدگی دیکھی گئی لیکن اس کے ارادوں پر شکوک برقرار ہیں۔ عراقچی نے ماسکو میں ایک پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگرچہ ہمیں امریکہ کے ارادوں اور محرکات پر سنجیدہ شکوک ہیں لیکن ہم بہرحال کل (ہفتہ) کے مذاکرات میں شرکت کریں گے۔ ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے ہفتہ کی صبح سوشل میڈیا پر ایک پیغام میں کہا کہ تہران کو علم ہے کہ یہ راستہ ہموار نہیں ہے لیکن وہ کھلی آنکھوں سے ہر قدم اٹھا رہا ہے اور ماضی کے تجربات پر بھی انحصار کیا جا رہا ہے۔ دوسری طرف ایران نے اپنی یورینیم افزودگی پر کچھ حدود قبول کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کی ہے۔ ایرانی آفیشل نے دعویٰ کیا ہے کہ ایران نے اپنی یورینیم افزودگی پر کچھ حدود قبول کرنے کیلئے آمادگی ظاہر کرتے ہوئے امریکی صدرڈونالڈ ٹرمپ سے ضمانت مانگی ہے کہ وہ معاہدہ سے دستبردار نہیں ہوں گے۔ دوسری جانب ماسکو میں روسی ہم منصب سے ملاقات میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ ہم روس کے تعاون سے امریکہ کے ساتھ کسی معاہدہ پر پہنچ سکتے ہیں۔