تہذیبی و ثقافتی تبادلوں میں کمی توجہ کی متقاضی، ایران کے وزیر فرشاد مہدی کے تاثرات
تہران۔ ہندوستان اور ایران کے قدیم روابط ہیں، دوستانہ تعلقات ہیں اور دونوں ملکوں میں ویسے تو کئی باتیں مشترک ہیں لیکن سب سے خاص بات یہ ہے کہ دونوں ملکوں نے سامراجی طاقتوں کا مقابلہ کیا اور اُنہیں سامراجی طاقتوں کے خلاف جدوجہد میں عظیم الشان کامیابی حاصل ہوئی لیکن حالیہ برسوں میں دیکھا جارہا ہے کہ ہندوستان اور ایران کے تہذیبی و ثقافتی تعلقات انتہائی کمتر سطح پر آگئے ہیں۔ ان خیالات کا اظہار ایران کے نائب وزیر اطلاعات و نشریات جناب فرشاد مہدی نے نمائندہ سیاست سے بات چیت کرتے ہوئے کیا۔ دفتر خارجہ میں انہوں نے دورہ کنندہ ہندوستانی صحافیوں کا شاندار خیرمقدم کیا۔ ایک سوال کے جواب میں ایرانی نائب وزیر اطلاعات و نشریات نے بتایا کہ ماضی میں ہند ۔ ایران نے زندگی کے ہر شعبہ میں تعاون کیا۔ دونوں ملکوں کے تعلقات وسیع تر ہیں، لیکن اب ایسا لگتا ہے کہ تہذیبی و ثقافتی تعلقات کمتر سطح پر آگئے ہیں۔ اس سوال پر کہ آیا یہ ہندوستان سے اسرائیل کی قربت کا نتیجہ تو نہیں ہے، انہوں نے برجستہ جواب دیا کہ آپ کے اخبار کا نام ’’سیاست‘‘ ہے، سوال بھی آپ نے سیاسی نوعیت کا کیا ہے ،آپ جو سمجھ رہے ہیں، ہوسکتا ہے کہ وہ بھی ایک وجہ ہو۔ ڈاکٹر فرشاد مہدی نے مزید بتایا کہ ایران میں ہندوستانی خبر رساں ایجنسیوں، ذرائع ابلاغ کے اداروں اور صحافیوں کا خیرمقدم ہے۔ اگر ہندوستانی صحافی، ایران میں صحافتی خدمات انجام دینا چاہیں اور اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی پیشکش کریں تو وہ خود بہ نفس نفیس اس ضمن میں اقدامات کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوستانی صحافت کو ایران جیسے قدیم ترین شراکت دار ملک میں سرگرم رول ادا کرنا چاہئے۔ ایک اور سوال پر ڈاکٹر فرشاد مہدی نے بتایا کہ ماضی میں ہندوستانی صحافت نے ایران میں کافی مقبولیت پائی، چونکہ ایک ہزار سال تک ہندوستان کی سرکاری زبان فارسی تھی، اس لئے فارسی صحافت نے ہندوستان اور ہندوستانیوں کو انگریزوں کے شکنجہ سے آزادی دلانے میں اہم کردار ادا کیا جس کے باعث ہی انگریزوں نے ہندوستان میں فارسی کے اثر اور اس کی مقبولیت کو کم کرنے ہر ممکن کوشش کی۔ ایران کے نائب وزیر اطلاعات و نشریات کے خیال میں آج کے دور میں خاص طور پر ہندوستان اور ایران کو سامراجی میڈیا کی تہذیبی یلغار و تہذیبی تصادم کا سامنا ہے۔ ایسے میں مذکورہ دو عظیم ملکوں کو جو ہزاروں سالہ عظیم الشان تاریخ رکھتے ہیں ، ان کی صحافت کو ایک دوسرے کے قریب آنا چاہئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہمیں اُمید ہے کہ ایران۔ ہندوستان اپنے تہذیبی و ثقافتی تعلقات کو باہمی تعاون و اشتراک سے فروغ دے سکتے ہیں۔ اس سلسلے میں دونوں ملکوں کے درمیان مشترکہ کمیٹی قائم کرنے کی ضرورت ہے۔