واشنگٹن ۔ 11 فبروری (ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے منگل کے روز اس اعتماد کا اظہار کیا ہے کہ ایران اپنے نیوکلیئر اور بیلسٹک میزائل پروگرام کے حوالے سے واشنگٹن کے ساتھ معاہدہ کرنا چاہتا ہے۔ انہوں نے اشارہ دیا کہ ایسا نہ کرنا ایران کیلئے “حماقت” ہو گی۔منگل کے روز “فوکس بزنس” کو دیے گئے انٹرویو میں ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا کہ ایک بڑا بحری بیڑا ایران کی طرف بڑھ رہا ہے، اور ان کے خیال میں ایرانی حکام معاہدے کے خواہش مند ہیں کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ معاہدہ نہ کرنا ان کے حق میں بہتر نہیں ہوگا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم پہلے بھی ان کی نیوکلیئر صلاحیتوں کو نقصان پہنچا چکے ہیں اور اب بھی ایسا کر سکتے ہیں، لیکن شرط یہ ہے کہ معاہدہ “اچھا” ہونا چاہیے جس میں نیوکلیئر ہتھیاروں اور میزائلوں کی کوئی گنجائش نہ ہو۔اسرائیلی “چینل 12” سے گفتگو کرتے ہوئے ڈونالڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا کہ وہ مشرق وسطیٰ میں ایک نیا
امریکہ کی ایران پر فوجی کارروائی کی تیاری؟
واشنگٹن، 11 فروری (یو این آئی) ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ نے فوجی کارروائی کی تیاری کرلی۔ واشنگٹن پوسٹ کی رپورٹ کے مطابق امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایک بار پھر دھمکی دیتے ہوئے کہا ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے کیلئے دوسرا بحری بیڑہ بھیج سکتے ہیں مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز اسٹرائیک گروپ بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ہم کوئی معاہدہ کریں گے یاپچھلی بار کی طرح کچھ بہت سخت کرنا پڑے گا۔ قبل ازیں امریکی نائب صدر جے ڈی وینس نے پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ اگر ہم ایرانیوں کے ساتھ ہونے والے اصل مذاکرات کو پھر سے یاد کریں تو ڈونالڈ ٹرمپ ایک ایسے تعمیری معاہدے تک پہنچنے کیلئے کوشش کر رہے تھے جو امریکہ کے مفاد میں ہو، سچی بات یہ ہے کہ پوری انتظامیہ اس پر متفق تھی۔ امریکی نائب صدر کا کہنا تھا کہ اگر ایران معاہدہ کرنے کیلئے سمجھداری سے کام لیتا تو یہ ان کے اپنے مفاد میں بھی ہوتا۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ صدر پر چھوڑ دوں گا کہ وہ مذاکرات کیلئے کیا حدود مقرر کرنا چاہتے ہیں۔ وہ عام طور پر یہ کام خفیہ طور پر کرتے ہیں اور یہ اعلان نہیں کرتے کہ وہ مذاکرات میں کیا کریں گے کیونکہ ان کا خیال ہے کہ اس سے وہ پابند ہو جاتے ہیں۔
طیارہ بردار بحری جہاز بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں ہو رہی ہے جب واشنگٹن اور تہران نئی محاذ آرائی سے بچنے کیلئے مذاکرات کی بحالی کی تیاری کر رہے ہیں۔ سلطنت عمان نے گذشتہ ہفتے دونوں ممالک کے درمیان بات چیت میں سہولت کاری کی ہے، جسے ایرانی وزارت خارجہ نے مثبت قرار دیا ہے۔امریکی حکام کے مطابق طیارہ بردار بحری جہاز جارج واشنگٹن یا جارج ڈبلیو بش کو خطے میں تعینات کیا جا سکتا ہے، جبکہ فورڈ کو بھی کیریبین سے روانہ کیا جا سکتا ہے۔ واشنگٹن کی کوشش ہے کہ مذاکرات کا دائرہ کار صرف نیوکلیئر پروگرام تک محدود نہ رہے بلکہ ایران کے بیلسٹک میزائل پروگرام کو بھی لگام دی جائے، تاہم ایران کا موقف ہے کہ اس کا میزائل ذخیرہ ناقابلِ گفت و شنید ہے۔توقع ہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامین نیتن یاہو چہارشنبہ کو واشنگٹن میں ڈونالڈ ٹرمپ سے ملاقات کے دوران اس بات پر زور دیں گے کہ کسی بھی معاہدے میں ایرانی میزائلوں پر پابندیاں شامل ہونی چاہئیں۔ واشنگٹن کا یہ بھی مطالبہ ہے کہ ایران 60 فی صد تک افزودہ یورینیم کے ذخیرے سے دست بردار ہو جائے۔
ٹرمپ کی ایران کیلئے دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کی دھمکی
واشنگٹن، 11 فروری (یو این آئی) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے مذاکرات کی ناکامی کی صورت میں ایران پر حملے کیلئے دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کی دھمکی دی ہے ۔ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے ۔ تاہم اس سے قبل ہی امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران پر حملے کیلئے دوسرا بحری بیڑہ بھیجنے کی دھمکی دے دی ہے ۔ ایران کے ساتھ مذاکرات ناکام ہونے کی صورت میں امریکہ نے فوجی کارروائی کی تیاری کرلی ہے اور ٹرمپ نے دھمکی دی ہے کہ مذاکرات ناکام ہوئے تو ایران پر حملے کیلئے دوسرا بحری بیڑہ بھیج سکتے ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ مشرق وسطیٰ میں دوسرا طیارہ بردار بحری جہاز اسٹرائیک گروپ بھیجنے پر غور کر رہے ہیں۔
ہم کوئی معاہدہ کریں گے یا پچھلی بار کی طرح کچھ بہت سخت کرنا پڑیں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکہ اور ایران کے درمیان مذاکرات کا دوسرا دور آئندہ ہفتے متوقع ہے اور فوجی دباؤ کے باعث ایران مذاکرات کیلئے سنجیدہ اور معاہدہ کرنے کیلئے زیادہ سنجیدگی دکھا رہا ہے ۔ دریں اثنا امریکی عہدیدار نے تصدیق کی ہے کہ خطے میں دوسرا طیارہ بردار بیڑہ بھیجنے پر بات چیت ہوئی ہے ۔ جب کہ یو ایس ایس ابراہم لنکن اور اس کا اسٹرائیک گروپ پہلے ہی تعینات ہے ۔ اسٹرائیک گروپ میں لڑاکا طیارے ، ٹوما ہاک میزائل اور متعدد جنگی جہاز شامل ہیں۔