دوحہ ۔ 7 مارچ (ایجنسیز) قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ جاری رہی تو خلیج کے توانائی پیدا کرنے والے تمام ممالک کو چند ہفتوں کے اندر اپنی برآمدات روکنا پڑ سکتی ہیں۔ فنانشل ٹائمز کو دیے گئے ایک انٹرویو میں جمعہ کو قطر کے وزیرِ توانائی سعد الکعبی نے خبردار کیا ہے کہ اگر ایران جنگ جاری رہی اور تیل کی قیمت 150 ڈالر فی بیرل تک پہنچ گئی تو خلیج کے تمام توانائی پیدا کرنے والے ممالک کو چند ہفتوں کے اندر اپنی برآمدات روکنا پڑ سکتی ہیں۔ قطر نے پیر کے روز مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی پیداوار روک دی تھی، کیونکہ ایران نے اسرائیل اور امریکہ کے حملوں کے جواب میں خلیجی ممالک پر حملے جاری رکھے ہوئے ہیں۔ قطر کی ایل این جی پیداوار دنیا کی مجموعی سپلائی کا تقریباً 20 فیصد ہے اور یہ ایشیا اور یورپ دونوں میں گیس کی طلب کو متوازن رکھنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔ الکعبی نے کہا کہ جن ممالک نے ابھی تک فورس میجر کا اعلان نہیں کیا، ہمیں توقع ہے کہ اگر یہی صورتحال جاری رہی تو وہ اگلے چند دنوں میں ایسا کر دیں گے۔ خلیجی خطہ کے تمام برآمد کنندگان کو فورس میجر کا اعلان کرنا پڑے گا۔ فورس میجر ایک قانونی اصطلاح ہے جس سے مراد ایسے غیر متوقع اور انسان کے اختیار سے باہر حالات ہوتے ہیں، جو کسی معاہدہ پر عمل کرنا عارضی یا مستقل طور پر ناممکن بنا دیں۔
ایران کے مہر آباد ایئر پورٹ اور دیگر مقامات پر
امریکی و اسرائیلی بمباری
تہران ۔ 7 مارچ (ایجنسیز) امریکہ اور اسرائیل کی طرف سے شروع کی گئی جنگ کے آج آٹھویں دن بھی ایران کے دارالحکومت تہران پر وسیع پیمانے پر حملے جاری ہیں، ایران کی جانب سے بھی ان حملوں کا جواب دینے کا سلسلہ جاری ہے۔ غیر ملکی میڈیا کے مطابق ایران کے مہر آباد ایئر پورٹ پر حملہ کر کے طیاروں کو نشانہ بنایا گیا ہے جبکہ تہران آزادی ٹاور کے قریب بھی امریکہ اور اسرائیل نے بم باری کی ہے۔ میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے کی گئی بمباری کے ننتیجے میں کئی عمارتیں تباہ ہو گئیں۔ ایران میں امریکہ اور اسرائیل کی جنگ میں اب تک شہداء کی تعداد 1 ہزار 332 ہو گئی ہے۔ امریکہ اور اسرائیل کی ایران میں کی گئی بمباری کے نتیجے میں شہید ہونے والوں میں طالبات، خواتین اور بچے بھی شامل ہیں۔ امریکی سینٹرل کمانڈ کا دعویٰ ہے کہ 3 ہزار سے زائد اہداف کو نشانہ بنایا گیا ہے، اب تک 43 ایرانی بحری جہازوں کو نقصان پہنچایا یا تباہ کیا جا چکا ہے۔ دوسری جانب ایران نے بھی اسرائیل پر تازہ میزائل حملے کیے ہیں، ایران نے تل ابیب اور وسطی اسرائیل کی جانب میزائل داغے ہیں۔ عرب میڈیا کے مطابق اردن نے 2 ایرانی میزائل انٹرسیپٹ کر دیے ہیں۔