امریکی انٹلیجنس چیف کا بڑا انکشاف،ایران امریکہ کیلئے فوری خطرہ نہیں تھا
واشنگٹن۔19؍مارچ (ایجنسیز) امریکہ کی انٹلیجنس چیف تلسی گبارڈ نے کہا ہے کہ ایران گزشتہ سال کے امریکی اور اسرائیلی حملوں کے بعد اپنی جوہری افزودگی کی صلاحیت دوبارہ بحال نہیں کر رہا تھا۔واشنگٹن میں سینیٹ کی انٹیلی جنس کمیٹی کے سامنے گواہی دیتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ 2025 میں ہونے والی امریکی کارروائی جسے ’آپریشن مڈنائٹ ہیمر کہا گیا کے نتیجے میں ایران کا جوہری پروگرام شدید متاثر ہوا تھا اور اس کے بعد اسے دوبارہ شروع کرنے کی کوئی کوشش نہیں دیکھی گئی۔یہ بیان امریکی صدر ٹرمپ کے اس مؤقف کے برعکس ہے جس میں وہ ایران کی جوہری سرگرمیوں کو جنگ کی ایک بڑی وجہ قرار دیتے رہے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ان کے حکام نے ایران کے ممکنہ جوہری خطرے کو بنیاد بنا کر اسرائیل کے ساتھ مل کر جنگی کارروائی کا جواز پیش کیا تھا۔دوسری جانب ایران نے ہمیشہ جوہری ہتھیار بنانے کے الزامات کی تردید کی ہے جبکہ بین الاقوامی ماہرین کا بھی کہنا ہے کہ اگر ایران ایسا کرنا بھی چاہے تو اسے اس مقصد کے حصول میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔ادھر امریکی حکام کا دعویٰ ہے کہ ایران کی میزائل اور بحری صلاحیتوں کو بھی کافی حد تک نقصان پہنچا ہے تاہم ماہرین کے مطابق ایران اب بھی خطہ میں اپنے مفادات کا دفاع کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے خاص طور پر آبنائے ہرمز میں۔علاوہ ازیں امریکی نیشنل کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائرکٹر جو کینٹ نے ایران جنگ کی مخالفت میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایران امریکہ کے لیے فوری خطرہ نہیں تھا اور جنگ کا فیصلہ درست نہیں تھا۔