دہلی ہائیکورٹ میں والدین کی درخواست پر سماعت
نئی دہلی ۔ 18 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) دہلی ہائیکورٹ نے ایران میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کو واپس وطن لانے کیلئے مرکزی حکومت کے اقدامات پر اطمینان کا اظہار کیا۔ کوروناوائرس کے باعث ایران میں کئی ہندوستانی طلباء پھنس گئے ہیں جہاں یہ وباء تیزی سے پھیل رہی ہے۔ مرکزی حکومت کے وکیل نے جسٹس نوین چاؤلہ کو بتایا کہ ایران میں پھنسے ہوئے 119 ہندوستانی طلباء اپنے والدین کے ذریعہ عدالت سے رجوع ہوئے۔ ان طلباء کا کورونا وائرس ٹسٹ کیا گیا جن کے منجملہ صرف ایک طالب علم مثبت پایا گیا جہاں وہ زیرعلاج ہے۔ مرکزی حکومت کے وکیل انوراگ اہلوالیہ نے داخلی امور، خارجی امور، صحت اور شہری ہوابازی کی وزارتوں کی نمائندگی کرتے ہوئے عدالت کو بتایاکہ 119 ہندوستانی طلباء کے منجملہ 110 طلباء ہندوستان واپس ہوچکے ہیں۔ پانچ طلباء کے نمونے ابھی نہیں لئے گئے ہیں۔ چار طلباء منفی پائے گئے جو ابھی ایران میں ہی ہیں۔ حکومت کی جانب سے پیش کردہ موقف سے متعلق رپورٹ کا جائزہ لینے کے بعد جج نے کہا کہ حکومت کی جانب سے اس سلسلہ میں کئے جارہے اقدامات سے وہ مطمئن ہیں۔ عدالت نے کہا کہ حکام نے توقع سے زیادہ کام کیا ہے۔ ایران میں پھنسے ہوئے ہندوستانی طلباء کے والدین نے اپنے بچوں کی بحفاظت وطن واپسی کیلئے مرکزی حکومت کو ہدایت دینے عدالت میں درخواست داخل کی تھی۔ طلباء کے والدین کی جانب سے وکلاء فوزیہ رحمن اور ایم قیوم الدین عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ کئی طلباء سے انہوں نے رابطہ کیا ہے جبکہ دیگر طلباء سے ان کا رابطہ نہیں ہوسکا ہے۔ عدالت نے کہا کہ جب بھی طلباء سے رابطہ قائم ہو تو حکام کو اس کی اطلاع دیں۔ عدالت نے اس درخواست پر کارروائی ختم کردی۔