تہران : ایرانی صدر ابراہیم رئیسی نے واضح کیا ہے کہ ان کا ملک ویانا میں عالمی طاقتوں کے ساتھ جوہری بات چیت میں سنجیدہ ہے۔ ایران کی سرکاری خبررساں ایجنسی ایرنا نے صدرابراہیم رئیسی کا ہفتے کے روز ایک بیان میں کیا۔اس میں انہوں نے کہا ہے کہ ہم مذاکرات میں سنجیدہ ہیں۔اگر دوسرا فریق بھی پابندیوں کے خاتمے میں سنجیدہ ہے تو ہم ایک اچھا سمجھوتا طے کرلیں گے۔ہم یقینی طور پر ایک بہترسمجھوتے کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ دوسری جانب امریکی ایوان نمائندگان میں خارجہ امور کی کمیٹی نے ایرانی ڈرون طیاروں پر روک لگانے کا قانونی بل متعارف کرا دیا۔ خارجہ امور کی کمیٹی کے سربراہ گریگوری میکس کے مطابق حالیہ چند ماہ میں ایران اور اس کی اتحادی ملیشیاؤں کی جانب سے ڈرون طیاروں سے حملوں کی جارحیت میں اضافہ ہوا ہے۔ میکس نے مزید کہا کہ تہران کی اتحادی ملیشیائیں امریکی افواج، تجارتی جہازوں اور ہمارے شراکت داروں کو نشانہ بنا رہی ہیں۔ خارجہ امور کی کمیٹی میں شامل سینئر ریپبلکن مائیکل کول کا کہنا ہے کہ ایرانی ڈرون طیارے مشرق وسطی میں ہمارے اور اتحادیوں کے لیے خطرہ ہیں۔