تہران: ایران کی جانب سے گذشتہ ڈھائی برس کے دوران میں روس کو سینکڑوں ڈرون طیارے فراہم کیے جانے کے بعد اب ایسا نظر آ رہا ہیکہ تہران عنقریب اپنے حلیف ماسکو کو بیسلٹک میزائل بھی فراہم کرے گا۔ یہ فراہمی جدید روسی سوخوی لڑاکا طیاروں کے مقابل ہو سکتی ہے۔ با خبر ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ یورپی ذمہ داران توقع کر رہے ہیں کہ تہران جلد ہی بیلسٹک میزائل ماسکو کے حوالے کرے گا۔ اس اقدام کے نتیجہ میں یوکرین کے حلیفوں کی جانب سے جلد رد عمل سامنے آ سکتا ہے۔ ذرائع نے شناخت ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ یہ روس یوکرین تنازعہ میں ایک تشویشناک پیشرفت ہو گی۔اگرچہ ایک ذمہ دار نے غالب گمان ظاہر کیا ہیکہ میزائلوں کی کھیپ کی ترسیل آئندہ چند روز میں شروع ہو جائے گی۔ تاہم ذرائع نے اس سلسلے میں میزائلوں کی خصوصیات یا تعداد کی تفصیل نہیں بتائی۔امریکہ اور ناٹو اتحاد میں شامل دیگر حلیف ممالک تہران کو بارہا اس اقدام سے خبردار کر چکے ہیں۔مذکورہ ذرائع کے مطابق روس کو بیسلٹک میزائل کی منتقلی کے سبب ایران کو اضافی پابندیوں کا سامنا ہو سکتا ہے۔