ماسکو، 26 مارچ (یو این آئی) ایران کے وزیر خارجہ عباس عراقچی نے کہا ہے کہ ملک کے حکام اس وقت خطے میں تنازعات کو ختم کرنے کیلئے امریکہ کے ساتھ بات چیت نہیں کر رہے ہیں ۔ عراقچی نے کہا کہ امریکہ مختلف ثالثوں کے ذریعے تہران کو پیغامات پہنچاتا ہے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں کہ مذاکرات جاری ہیں۔24مارچ کو امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے کہا تھاکہ سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو، نائب صدر جے ڈی وینس، خصوصی ایلچی اسٹیو وٹ کوف اور ٹرمپ کے داماد جیرڈ کشنر ایران کے ساتھ امریکی مذاکراتی ٹیم کا حصہ ہیں۔ امریکی صدر نے کہا تھاکہ مذاکراتی عمل اتوار کو دوبارہ شروع ہوا اور اس نے تنازعہ کو حل کرنے کیلئے تہران کے سنجیدہ ارادے کا اظہار کیا ہے ۔ دوسری جانب ایرانی وزارت خارجہ نے امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی تردید کی ہے ۔28 فروری کو، امریکہ اور اسرائیل نے تہران سمیت ایران میں مختلف اہداف پر حملے شروع کیے تھے ، جس سے شہریوں کو نقصان اور ہلاکتیں ہوئیں۔ ایران نے جوابی کارروائی کرتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں اسرائیلی سرزمین اور امریکی فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا تھا۔امریکہ اور اسرائیل نے ابتدائی طور پر دعویٰ کیا تھا کہ ایران کے جوہری پروگرام سے آنے والے خطرے کا مقابلہ کرنے کیلئے ان کا پہلے سے حملہ ضروری تھا۔
، لیکن انہوں نے جلد ہی واضح کر دیا کہ وہ ایران میں اقتدار کی تبدیلی بھی دیکھنا چاہتے ہیں۔