ایران معاہدہ کرے یا آبنائے ہرمز کھولے ‘ ورنہ جہنم کے دروازے کھول دئے جائیں گے

,

   

صرف 48 گھنٹوں کا وقت باقی ۔ ڈونالڈ ٹرمپ نے جاری کیا انتباہ ۔ ایران نے ایک دن میں دو امریکی طیارے مار گرائے ۔ ایک پائلٹ کی تلاش جاری

واشنگٹن 4 اپریل ( ایجنسیز) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے ایران کو خبردار کیا ہے کہ اس کے پاس سمجھوتہ کرنے یا آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے 48 گھنٹے کا وقت ہے جس کے بعد ایران پر دوزخ کے دروازے کھول دئے جائیں گے ۔ ٹرمپ نے امریکہ کو یاد دہانی کروائی کہ انہوں نے کوئی سمجھوتہ یا معاہدہ کنے یا پھر آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے ایران کو 10 دن کا وقت دیا تھا ۔ انہوں نے تاہم کہا کہ اب محض دو دن باقی رہ گئے ہیں اور ایران کیلئے وقت تیزی سے نکلتا جا رہا ہے ۔ ٹرمپ نے اپنے سوشیل میڈیا پلیٹ فارم ٹرتھ پر لکھا کہ یاد رہے کہ جب میں نے کوئی معاہدہ کرنے یا آبنائے ہرمز کو کھولنے کیلئے 10 دن کا وقت دیا تھا ۔ وقت نکلتا جا رہا ہے ۔ اس کے بعد ایران پر دوزخ کے دوازے کھول دئے جائیں گے ۔ 26 مارچ کو ٹرمپ نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے تہران کیلئے واشنگٹن کے ساتھ کوئی معاہدہ کرنے یا پھر مزید حملوں کا سامنا کرنے کیلئے ایران کی خواہش پر ہی 10 دن کا وقت دیا ہے حالانکہ ایران نے امریکہ کی اس تجویز کو مسترد کردیا تھا اور کہا تھا کہ تصادم کا خاتمہ کرنے امریکہ کی تجاویز یکطرفہ اور غیرواجبی ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایران نے امریکی حملوں کو سات دن کیلئے روکنے کی بات کہی تھی جب امریکہ نے ایران کے توانائی انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنانے کی دھمکی دی تھی ۔ امریکہ نے تاہم دس دن کی مہلت دینے کا اعلان کیا تھا ۔ فاکس نیوز سے بات کرتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ ایرانی عہدیداروں نے ان کے انتظامیہ سے رابطہ کیا ہے اور مزید وقت طلب کیا ہے تاکہ جاریہ سفارتی کوششوں کو وقت مل سکے ۔ امریکہ کا دعوی ہے کہ مشرق وسطی جنگ کے دوران سفارتی کوششیں بھی جاری ہیں۔ ٹرمپ نے کہا کہ ایرانیوں نے میرے لوگوں سے بہت اچھے لہجے میں بات کی ہے ۔ انہوں نے پوچھا ہے کہ کیا مزید وقت دیا جاسکتا ہے کیونکہ ہم کل رات کی ہی بات کر رہے ہیں۔ یہ وقت بہت قریب ہے ۔ اگر ایران وہ نہیں کرتا جو اسے کرنا چاہئے تو میں ان کے برقی پلانٹس کو اڑا دونگا ۔ ایران نے تاہم بیشتر مواقع پر ٹرمپ کے دعووں کو مسترد کردیا ہے اور کہا ہے کہ اس کی جنگ بندی کیلئے کوئی سفارتی بات چیت نہیں ہو رہی ہے اور اگر امریکہ نے ایران کے برقی پلانٹس کو نشانہ بنایا تو پھر ایران بھی مشرق وسطی میں کئی ممالک کے توانائی و برقی پلانٹس کو نشانہ بناتے ہوئے خطہ کو تاریکی میں ڈبو دے گا ۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اگر امریکہ برقی پلانٹس کو نشانہ بناتا ہے تو یہ جنگی جرم قرار دیا جاسکتا ہے ۔اس دوران ایران کے ساتھ جاری کشیدگی کے دوران امریکہ کو بڑا دھکہ لگا ہے، جہاں ایران نے ایک ہی دن میں دو امریکی جنگی طیارے مار گرانے کا دعویٰ کیا ہے جبکہ دو ہیلی کاپٹروں پر بھی حملہ کیا گیا۔ ان واقعات میں دو پائلٹس محفوظ نکل آئے، تاہم ایک پائلٹ تاحال لاپتہ بتایا جا رہا ہے۔رپورٹس کے مطابق ایران نے ایک امریکی جنگی طیارے کو نشانہ بنا کر تباہ کر دیا، جس میں سوار عملے میں سے ایک کو بچا لیا گیا جبکہ دوسرے کی تلاش جاری ہے۔ اسی دوران آبنائے ہرمز کے قریب ایک اور طیارہ بھی مار گرایا گیا، جس کا پائلٹ محفوظ رہا۔ امریکی حکام کے مطابق یہ دونوں واقعات تقریباً ایک ہی وقت میں پیش آئے، جس سے ایران کے فضائی دفاعی نظام کی صلاحیت پر نئی بحث چھڑ گئی ہے۔ادھر لاپتہ پائلٹ کی تلاش کے لیے بھیجے گئے ہیلی کاپٹروں پر بھی حملے کی اطلاعات ہیں، تاہم وہ بچ نکلنے میں کامیاب رہے۔ اس پیش رفت پر امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ کو بریف کیا گیا، جنہوں نے کہا کہ یہ واقعات جاری سفارتی بات چیت پر اثر انداز نہیں ہوں گے اور واضح کیا کہیہ جنگ ہے، اور ہم جنگ میں ہیں۔علاوہ ازیں امریکہ نے ایران میں گرائے گئے اپنے لڑاکا طیارے کے پائلٹ کی تلاش کے لیے مہم تیز کر دی ہے اور اس کے لیے وہ اے سی-130 گن شپ کا استعمال کر رہا ہے ۔بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں اطلاع دی ہے ۔ بی بی سی کے امریکی شراکت دار سی بی ایس نیوز سے بات کرتے ہوئے امریکہ کے ایک سابق کمانڈر نے بتایا کہ اگر بچاؤ مہم کا ہدف ایسے علاقے میں ہے جہاں ہیلی کاپٹر نہیں پہنچ سکتا، تو اے سی-130 گن شپ کے اسکوڈرن اس طیارے سے چھلانگ لگائیں گے اور پیدل ہی تلاش کی مہم شروع کر دیں گے ۔انہوں نے کہا کہ زمین پر پہنچنے کے بعد اسکوڈرن کا مقصد لاپتہ پائلٹ سے رابطہ کرنا، ضرورت پڑنے پر میڈیکل مدد دینا، دشمن سے بچنا یا اسے روکنا اور ایسی جگہ پہنچنا ہوتا ہے جہاں سے انہیں بچایا جا سکے ۔