ایران میزائل پروگرام دوبارہ تیارکررہا ہے: یوروپ

   

Ferty9 Clinic

نیویارک : 30 اکٹوبر ( ایجنسیز ) مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے انکشاف کیا ہے کہ ایران اقوام متحدہ کی پابندیوں کے باوجود چین کی مدد سے دوبارہ اسلحہ سازی کر رہا ہے۔ ایجنسیوں نے مزید کہا کہ تہران گزشتہ ماہ دوبارہ عائد کی گئی پابندیوں کو چیلنج کرتے ہوئے اپنا بیلیسٹک میزائل پروگرام دوبارہ تعمیر کرنے پر کام کر رہا ہے۔”سی این این” کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یورپی انٹیلی جنس ذرائع کے مطابق ایران کی بندر عباس بندرگاہ پر چین سے آنے والے ”سوڈیم پرکلوریٹ” کے کئی کھیپیں پہنچی ہیں۔ یہ ایک ضروری مواد ہے جو درمیانے فاصلے تک مار کرنے والے بیلیسٹک میزائلوں کو طاقت فراہم کرنے والے ٹھوس ایندھن کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ذرائع نے بتایا کہ یہ کھیپیں گزشتہ 29 ستمبر سے آنی شروع ہوئیں اور ان کا وزن 2,000 ٹن تھا۔ ایران نے انہیں چین کے سپلائرز سے اسرائیل کے ساتھ جون میں ہونے والے مسلح تنازع کے بعد خریدا تھا تاکہ جنگ میں نقصان پہنچنے والے اپنے میزائل ذخیرے کو دوبارہ تعمیر کیا جا سکے۔ رپورٹ میں کہا گیا کہ حال ہی میں آنے والی کھیپوں کی مقدار پچھلی مقداروں سے بہت زیادہ ہے۔ پابندیاں دوبارہ عائد ہونے کے بعد 10 سے 12 کھیپوں کا سراغ لگایا گیا ہے جو ایران کی جانب سے دوبارہ اسلحہ سازی کی رفتار میں تیزی کو ظاہر کرتا ہے۔دوسری جانب رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ چین اقتصادی اور سفارتی طور پر ایران کا ایک اہم اتحادی ہے اور پابندیوں کے باوجود سمگلنگ کے پیچیدہ نیٹ ورکس کے ذریعے ایرانی تیل کی زیادہ تر برآمدات خریدنا جاری رکھے ہوئے ہے۔ ان نیٹ ورکس میں ٹینکروں کا ”تاریک فلیٹ” بھی شامل ہے جو ایرانی تیل کے ماخذ کو چھپاتا ہے۔ یورپی سکیورٹی ذرائع نے یہ بھی بتایا ہے کہ اسی طرح کے نیٹ ورکس، جن میں فرضی شیل کمپنیاں شامل ہیں اور بعض پر امریکی پابندیاں بھی عائد ہیں، اس وقت سوڈیم پرکلوریٹ ایران کو فراہم کرنے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔