تہران ۔ 20 فبروری (سیاست ڈاٹ کام) ایران میں پارلیمانی انتخابات کے لیے انتخابی مہم کی مدت گزشتہ شب ختم ہو گئی۔ 290 قانون سازوں کے انتخاب کے لیے ان الیکشن کو موجودہ حکومت کی عوام میں مقبولیت کے لیے امتحان کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ 2015 میں امریکہ کی نیوکلیئر معاہدہ سے علیحدگی اور پابندیوں کی بحالی کے بعد ایران میں یہ پہلے انتخابات ہیں۔ جمعہ کو پورے ملک میں ایک ساتھ صبح 8 بجے پولنگ شروع ہوگی اور شام تک جاری رہے گی۔ البتہ ایران کے انتخابی ہیڈکوارٹر کے اعلان کے مطابق ضرورت پڑنے پر پولنگ کے وقت میں توسیع بھی کی جا سکتی ہے۔ایران کے آئین کے مطابق انتخابات میں حصہ لینے والے امیدواروں کے لئے انتخابات کے لئے پولنگ کا سلسلہ شروع ہونے سے 24 گھنٹے پہلے تشہیری مہم اور کنونسنگ روکنا لازم ہے۔ ایران کے الیکشن آفس کے سربراہ جمال عرف نے کہا کہ گیارہویں دور کے پارلیمانی انتخابات میں ستاون ملین نو لاکھ اٹھارہ ہزار ایک سو انسٹھ افراد ووٹ ڈالنے کے اہل ہیں۔ایران کے پارلیمانی انتخابات میں ووٹنگ کے لئے 208 حلقوں میں 55 مراکز قائم کئے گئے ہیں۔ اسلامی انقلاب کی کامیابی کے 41 برس میں مجلس شورائے اسلامی پارلیمنٹ کے گیارہویں دور کے انتخابات کا انعقاد ، ایران کے دینی جمہوری نظام میں انتخابات کی اہمیت کی علامت کی عکاسی کرتے ہیں۔ انتخابات میں ایرانی عوام کی پوری آزادی و اختیار سے شرکت اور اپنے من پسند امیدوار کے انتخاب کو پارلیمنٹ میں بھیجنے سے پتہ چلتا ہے کہ ایران کے اسلامی جمہوری نظام میں عوام اپنے سیاسی مستقبل کے فیصلے میں براہ راست کردار کے حامل ہیں۔ ایران کی پارلیمنٹ اور ممبران پارلیمنٹ، قانون سازی اور نگرانی و جواب دہی کے دو کلیدی اور خاص کام کے باعث دیگر ارکان حکومت کو مضبوط بنانے میں براہ راست کردار ادا کرتے ہیں۔ درایں اثنا صدر حسن روحانی نے پارلیمانی انتخابات میں ایرانی عوام کی بھرپور شرکت کو امریکہ کے لیے غم کا دن قرار دیا اور کہا ہے کہ ایران کے عوام اپنے اتحاد و یکجہتی سے امریکیوں پر واضح کردیں گے کہ وہ طاقتور اور توانا ہیں۔