میں نے دانشور اور تجربہ کار قائد کو ملک کی صدارت کی ذمہ دار سونپی ہے: خامنہ ای، نیوکلیر معاہدہ کی بحالی اہم چیلنج
تہران : قدامت پسند قائد ابراہیم رئیسی نے آج باقاعدہ طور پر ایران کے نئے صدر کی ذمہ داریاں سنبھال لیں۔ انہوں نے ملک کی قیادت ایک ایسے وقت سنبھالی ہے جب ایران اپنی معیشت کو بحال کرنے اور عالمی طاقتوں کے ساتھ نیوکلیر معاہدہ کی واپسی کا خواہاں ہے جو 2015 میں کیا گیا تھا۔ اس موقع پر ایران کے اعلیٰ قائد آیت اللہ علی خامنہ ای نے اپنے ایک تحریری پیغام میں کہا کہ عوام کے انتخاب کو ملحوظ رکھتے ہوئے وہ تجربہ کار اور انتہائی دانشور تصور کئے جانے والے ابراہیم رئیسی کو ملک کے صدر کے عہدہ کی ذمہ داریاں تفویض کررہے ہیں۔ یہاں اس بات کا تذکرہ ایک بار پھر ضروری ہے کہ ابراہیم رائیسی کے پیشرو حسن روحانی ایک اعتدال پسند قائد کے طور پر جانے جاتے ہیں جن کا سب سے بڑا کارنامہ 2015 میں ایران اور چھ دیگر عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیر معاہدہ کیا جانا تھا۔ ابراہیم رئیسی کو اپنا عہدہ سنبھالتے ہی سب سے پہلے جو اہم کام انجام دینا ہے وہ ہے نیوکلیر معاہدہ کی بحالی کے لئے موثر بات چیت جس کے لئے ابراہیم رئیسی جانے جاتے ہیں۔ یہ وہی معاہدہ تھا جس سے بعد میں امریکہ اکیلے ہی دستبردار ہو گیا تھا اور ایران پر نئی تحدیدات عائد کردی گئی تھی۔ اپنی افتتاحی تقریر میں ابراہیم رئیسی نے کہا کہ ان کی حکومت امریکہ کی جانب سے ظلم کی طرح عائد کئے گئے تحدیدات کو برخاست کرنے کو اولین ترجیح دے گی اور کسی بھی حالت میں ایران کے عوام کی طرز زندگی کو بیرونی لوگوں کی خواہشات کی بھینٹ نہیں چڑھایا جائے گا۔ 60 سالہ ابراہیم رئیسی کو دیگر مسائل کا بھی سامنا ہے جیسا کہ گزشتہ ہفتہ ایک آئیل ٹینکر پر ہوئے حملہ کے لئے امریکہ، برطانیہ اور اسرائیل، ایران کو مورد الزام ٹھہرا رہے ہیں۔ واضح رہے کہ جون میں رسئیسی نے ملک میں منعقدہ صدارتی انتخابات میں کامیابی حاصل کی تھی لیکن حیرت کی بات یہ تھی کہ انتخابات میں ملک کی آبادی کا نصف حصہ حق رائے دہی کے لئے آگے نہیں آیا کیونکہ ملک کے کئی قابل اور تجربہ کار سیاستدانوں کو انتخابات لڑنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔ ابراہیم رئیسی کے عہدہ صدارت سنبھالنے کی تقریب کے موقع پر مختلف راستوں پر ٹریفک تحدیدات کا نفاذ کیا گیا تھا جبکہ دارالخلافہ تہران سے پرواز کرنے والے اور تہران آنے والی ڈومیسٹک فلائٹس کو دو گھنٹوں تک مسدود کردیا گیا تھا۔ منگل کے روز منعقدہ تقریب کے ذریعہ یہ توثیق ہوگئی کہ ابراہیم رئیسی اب ملک کے صدر کی حیثیت سے اپنے دفتر میں کام کاج سنبھال لیں گے جبکہ جمعرات کے روز پارلیمنٹ میں موصوف اپنے عہدہ کا حلف لیں گے۔ اس موقع پر اٹلی میں واقع یوروپین انسٹی ٹیوٹ یونیورسٹی کے ایک محقق کلیمنٹ تھیرمے نے کہا کہ نئے صدر کے لئے امریکہ کی جانب سے عائد کردہ تحدیدات کو برخاست کروانا اور ملک کی معیشت کو ایک بار پھر مستحکم کرنا اعظم ترین چیلنج ہوگا۔ علاوہ ازیں پڑوسی ممالک جیسے روس اور چین کے ساتھ خوشگوار تعلقات بنائے رکھنا بھی نئے صدر کے لئے ایک بڑی آزمائش ہوگی۔ یاد رہے کہ اب تک یعنی اپریل تا جون ایران اور دیگر چھ عالمی طاقتوں کے درمیان نیوکلیر مذاکرات کے چھ ادوار ہوچکے ہیں لیکن کوئی مثبت نتائج سامنے نہیں آئے۔