تہران ۔ 9 فروری (ایجنسیز) ایران میں متعدد اصلاح پسند شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو مزید سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ ایران میں متعدد اصلاح پسند شخصیات کو گرفتار کر لیا گیا ہے، جبکہ نوبل امن انعام یافتہ نرگس محمدی کو مزید سات سال قید کی سزا سنائی گئی ہے۔ مقامی میڈیا کے مطابق پیر کے روز ایرانی سکیورٹی فورسز نے ملک کی اصلاح پسند تحریک سے تعلق رکھنے والی متعدد شخصیات کو گرفتار کیا۔ تہران میں اختلاف رائے کے خلاف کریک ڈاؤن مزید وسیع ہوتا جا رہا ہے۔ گرفتار ہونے والوں میں اصلاح پسند محاذ کی سربراہ آذر منصوری، سابق سفارتکار محسن امین زادہ اور ابراہیم اصغرزادہ شامل ہیں، جو 1979 میں تہران میں امریکی سفارت خانے پر دھاوا بولنے والے گروپ کا حصہ تھے۔ اصلاح پسند کیمپ کے مرکزی اتحاد کے ترجمان جواد امام کو بھی گرفتار کر لیا گیا ہے۔ ایرانی سرکاری خبر رساں ایجنسی ارنا کے مطابق، تہران کے پراسیکیوٹر کے بیان میں کہا گیا ہے کہ چار افراد کو گرفتار کیا گیا جبکہ دیگر کو حکام کے ساتھ ملاقات کیلئے طلب کیا گیا ہے۔ ان پر الزام ہے کہ وہ امریکہ اور اسرائیل کی جانب سے فوجی خطرات کے ماحول میں ملک کی سیاسی اور سماجی صورتحال کو متاثر کرنے والی سرگرمیوں کی ’’تنظیم اور قیادت‘‘ میں ملوث تھے۔ گرفتاریوں کی وجہ جنوری میں جاری کیا گیا ایک اصلاح پسند بیان ہو سکتا ہے جس میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای سے استعفیٰ دینے کا مطالبہ کیا گیا تھا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ ایران میں اصلاح پسند تحریک کو کتنی حمایت حاصل ہے۔