مظاہرے کئی شہروں تک پھیل گئے‘ تاحال 65 افراد ہلاک!انٹر نٹ اور فون کالس پر پابندی
تہران۔10؍جنوری ( ایجنسیز)ایران میں مہنگائی کے خلاف جاری حکومت مخالف مظاہرے پُرتشدد رخ اختیار کرگئے۔ مظاہروں کے دوران انٹر نٹ اور فون کالس پر پابندی عائد کردی گئی ہے۔ امریکی جریدے ٹائم میگزین نے دعویٰ کیا ہے کہ مختلف شہروں میں مظاہرین اور سیکیورٹی اہلکاروں کے درمیان ہونے والی جھڑپوں کے دوران درجنوں اموات ہوئی ہیں ۔رپورٹس کے مطابق گزشتہ رات سے احتجاج میں مزید شدت دیکھنے میں آئی جس کے دوران متعدد شہروں میں شدید جھڑپیں ہوئیں۔ مظاہرین نے مختلف علاقوں میں توڑ پھوڑ کی اور سرکاری و عوامی املاک کو نشانہ بنایا۔ اطلاعات کے مطابق احتجاج کے دوران بینکس، مساجد، ہاسپٹلس اور 48 فائر ٹرکوں کو نقصان پہنچایا گیا جبکہ سرکاری عمارتوں اور پولیس اسٹیشنز پر بھی حملے کیے گئے جس کے نتیجے میں کئی سکیورٹی اہلکار زخمی ہوئے۔ایرانی حکام نے تاحال ہلاکتوں کی سرکاری طور پر تصدیق نہیں کی۔ دوسری جانب واشنگٹن ڈی سی میں قائم ہیومن رائٹس ایکٹیوسٹ نیوز ایجنسی نے رپورٹ کیا ہے کہ اب تک کم از کم 63 افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں 49 عام شہری شامل ہیں۔غیر ملکی انسانی حقوق کے اداروں کے مطابق تہران اور مشہد میں رات گئے حکومت کے خلاف مظاہرے کیے گئے اور یہ احتجاج 100 کئی شہروں تک پھیل گیا جبکہ اب تک تقریباً 2500 افراد گرفتار ہو چکے ہیں۔ ایران کے سرکاری میڈیا نے تشدد بھڑ کانے کیلئے امریکہ اور اسرائیل کے دہشت گرد ایجنٹوں کو ذمہ دار ٹہرایا ہے ۔ ایرانی سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا ہے کہ امریکہ کے ہاتھ ایرانیوں کے خون سے رنگے ہوئے ہیں۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ کچھ فسادی عناصر عوامی املاک کو نقصان پہنچا کر امریکی صدر کو خوش کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے ایرانی عوام پر زور دیا کہ وہ اتحاد برقرار رکھیں ۔ انہوں نے امریکی صدر کو پیغام دیا کہ وہ اپنے ملک کے داخلی مسائل پر توجہ دیں۔ایران کے وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ سے مطالبہ کیا ہے کہ ایران کے داخلی معاملات میں عالمی مداخلت کو روکا جائے۔
ایرانی وزارت خارجہ کا کہنا ہے کہ ایران کے داخلی امور پر امریکی بیانات مداخلت اور دھوکا دہی کے مترادف ہیں۔ ایرانی سفیر کے مطابق ایران کے عوام کی اکثریت ریاست اور سکیورٹی اداروں کے ساتھ کھڑی ہے اور ایرانی قوم اپنی تہذیب، قیادت اور اتحاد کے ذریعے ہر سازش کو ناکام بنائے گی۔
